خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 99

خطبات طاہر جلدا 99 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء نہیں دیکھتا۔انصار اللہ جب کہہ دیا تو سب کچھ خدا کے سپرد کر دیا مسیح محمدی کی طرف منسوب ہو کر سوسال نہیں صرف ایک نسل کی تکلیف برداشت کرتے ہوئے تم ہمت ہار دو تو کیا تمہیں زیب دیتا ہے که مسیح محمدی کے انصار ہونے کا دعوی کرو۔پس اس سورۃ الصف میں ہمارے لئے ایک پوری تاریخ کھول کر بیان فرما دی گئی ہے ہمارا کیا کردار ہونا چاہئے، کن کن قربانیوں کی اللہ تعالیٰ ہم سے توقع رکھتا ہے کس عہد و پیمان کی ہم سے توقع رکھتا ہے اور پھر سابق مسیح کی طرف اشارہ کر کے پوری مسیحیت کی تاریخ کھول کر ہمارے سامنے رکھ دی اور بتایا کہ اس راہ میں یہ یہ ابتلاء آئیں گے، یہ یہ مشکلات پیش ہوں گی۔ایک نسل کی فتح کا سوال نہیں ، دو نسلوں کی فتح کا سوال نہیں تمہاری فتح کا زمانہ لمبا بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک وعدہ فرما دیا اور وہ وعدہ فتح قریب کا وعدہ ہے۔یہ وہ پہلو ہے جو میں آپ کے سامنے خوب اچھی طرح کھولنا چاہتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بارہا اس مضمون کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ مجھے مسیح ناصری سے تشبیہ دی گئی لیکن محمد ﷺ کی برکت سے میری تکلیفیں بھی کم کی گئی ہیں اور اسی نسبت سے تمہاری تکلیفیں بھی کم کی گئی ہیں۔فرمایا اگر محمد مصطفے ﷺ کی برکت نہ ہوتی تو میں بھی روئے صلیب ضرور دیکھتا کیونکہ میں الله صلى الله واقعہ مسیح کا مثیل ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی برکت سے اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے ہماری آزمائشوں کو چھوٹا بھی کر دیا اور آسان بھی فرما دیا ہے۔پس آپ نے اس مضمون کو بھی خوب کھول کر بیان فرمایا کہ اگر چہ مسیح کو تین سو سال کے بعد غلبہ عطا ہوا تھا اس لئے اگر مجھے اور میری جماعت کو بھی تین سو سال میں غلبہ عطا ہو تو کوئی تعجب یا اعتراض کی بات نہیں لیکن میں یہ یقین رکھتا صلى الله ہوں کہ محمد ﷺ کی برکت سے ہمارے غلبے کی مدت کو کم کر دیا جائے گا۔وہ زمانہ جو قر بانیوں کا زمانہ ہے وہ چھوٹا کر دیا جائے گا اور جزا کے زمانہ کولمبا کر دیا جائے گا۔پس فتح قریب نے یہاں یہ وعدہ کیا ہے کہ اے محمد مصطفے ﷺ کے غلامو! اگر تم یہ وعدہ پورا کرو اس تجارت کی طرف آجاؤ جس کی طرف ہم تمہیں بلاتے ہیں تو خدا تعالیٰ تمہاری فتح کے دن قریب کر دے گا اور تمہیں تین سو سال کے انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔پس اس وجہ سے میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ بات ایک معنوں میں ہمارے اختیار میں