خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 98 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 98

خطبات طاہر جلدا 98 88 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء کر دیا اور جانیں دیں، جانوروں کے سامنے ڈالے گئے ، درندوں کے سامنے ڈالے گئے ،لوگ بڑے بڑے تھیڑ زمیں اور تماشہ گاہوں میں بیٹھے ہوتے تھے اور ان کے سامنے پنجروں سے بھوکے شیر یا بیل یا اور قسم کے خوفناک جانور حضرت مسیح کے غلاموں پر چھوڑے جاتے تھے کیونکہ وہ دنیا کی خاطر دین کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ان کو پہلے ڈرایا جاتا تھا اور ان کی عاقبت کے بارہ میں خوب اچھی طرح خبر دار کر دیا جاتا تھا بار بار ان کو سمجھایا جاتا تھا کہ توبہ کرلو اور مسیح کو چھوڑ واور ہمارے خداؤں کے سامنے سر جھکاؤ ورنہ تمہارا یہ انجام ہوگا۔یہ ساری باتیں سننے کے بعد یقین کرنے کے بعد وہ یہی کہا کرتے تھے۔کہ ہم مسیح کو کبھی نہیں چھوڑیں گے جو چاہو کر لو اور اس کے نتیجہ میں پھر ان پر بڑے بڑے ابتلاء آئے ان کی سچائی کو طرح طرح سے آزمایا گیا اور یہ جو باتیں میں بیان کر رہا ہوں یہ حقیقت ہے اور اس میں کوئی بھی افسانہ نہیں یہ تاریخی حقائق ہیں کہ ان ایمان لانے والوں کمزوروں اور بھوکوں کو تماشہ گاہوں میں میدان کی طرف سے نکالا جاتا تھا اور دوسری طرف سے بھوکے شیروں یا بھیڑیوں یا اور درندوں کو چھوڑا جاتا تھا اور وہ آنا فانا ان کو چیر پھاڑ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا کرتے تھے ان کی ہڈیوں کو جھنجھوڑتے تھے ان کے گوشت کو کھاتے اور ان کے خون کو پیتے تھے اور سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھتا تھا اور خوشی سے نعرے لگائے جاتے تھے کہ یہ مسیح کے ایک اور ماننے والے کو ہم نے اس بدانجام کو پہنچایا یہ ایک نسل کی بات نہیں دو نسل کی بات نہیں ایک سوسال میں کئی نسلیں گزر جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آئے ہوئے ابھی ایک سو سال ہوئے ہیں اور آپ دیکھیں کہ ہماری چوتھی پانچویں نسل بلکہ چھٹی نسل تک میں نے ایک خاندان میں گن کر دیکھے تھے اور یہ چھ نسلیں ایک سوسال کے اندراندر پیدا ہوگئی ہیں تو تین سو سال تک کتنی نسلیں ہیں جنہوں نے کامل وفا کے ساتھ اس عہد کو نبھایا ہے اور مسیح ناصرٹی سے وفا کی ہے۔یہ مطلب ہے انصار اللہ بنے کا لیکن میں بعض دفعہ تعجب سے اور دُکھ سے دیکھتا ہوں کہ پاکستان سے بعض احمدی لکھ دیتے ہیں کہ اب تو حد ہو گئی کہ اب اور کتنی مدت تک خدا ہم سے انتظار کروائے گا ؟ اتنی تکلیفیں پہنچ گئیں خدا کی مدد کیوں نہیں آتی۔کیوں نقشے نہیں بدلتے ، کیوں دشمن ہلاک نہیں ہوتا؟ میں حیرت سے دیکھتا ہوں اور میرا دل خون ہو جاتا ہے ان باتوں کو سن کر کہ تم نے مسیح مہدی سے وعدہ کیا ہے کہ ہم اپنی جان مال عزت سب کچھ پیش کر دیں گے اور جو اپنی جان دے دے اس کو پھر اس سے کیا غرض کہ میرے بعد کیا ہوگا یا میں کیا دیکھتا ہوں اور کیا