خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 97
خطبات طاہر جلدا 97 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء کے حضور حاضر کر دے جب فرمایا: مَنْ اَنْصَارِى إِلَی اللہ۔تو دراصل کن معنوں میں انصار بننا تھا اس کا نقشہ پہلے ہی کھینچا گیا ہے اور اس کے بعد مسیح کا یہ پیغام دیا گیا تا کہ انسان خوب اچھی طرح سمجھ لے کہ جب میں نے خدا کی راہ میں مسیح کے انصار میں داخل ہونا ہے تو مجھ سے کیا توقع کی جاتی ہے۔ناصر بننا کس کو کہتے ہیں؟ پہلے خوب سمجھایا گیا پھر مسیح کا دعوی پیش کیا گیا پھر مسیح موسوی کی قوم کا جواب پیش کیا گیا اور عملاً یہ صلائے عام دی گئی کہ اے محمد مصطفے ﷺ کے غلاموا مسیح موسوی سے اس کی قوم نے جو محبت اور عشق کا سلوک کیا تھا کیا تم مسیح محمدی سے اس سے بڑھ کر محبت اور عشق کا سلوک نہیں کرو گے؟ اگر مسیح موسوی کے غلاموں نے بڑی شان کے ساتھ اور بڑی عاجزی کے ساتھ اور کامل خلوص اور صدق کے ساتھ خدا کی خاطر مسیح کے حضور اپنے اموال اور جانیں پیش کر دیئے تھے تو کیا تم بھی ایسا نہیں کرو گے یہ وہ سوال ہے جو اس میں مضمر ہے، اس میں شامل ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ ایک عشق کا نظارہ ہے۔حضرت مسیح کے انصار کے حالات پر آپ نظر ڈالیں تو واقعہ یوں لگتا ہے جیسے وہ دیوانے ہو گئے۔ایک وہ کیفیت تھی جب حضرت مسیح صلیب کی آزمائش سے ابھی گزرے نہیں تھے۔اس کیفیت میں آپ بعض دفعہ ان کے متعلق ایسے تبصرے بھی کر دیتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے ایمان میں کوئی جلا نہیں تھی ، کوئی خاص شان نہیں تھی، ایسے بھی تھے جنہوں نے دنیا کی لالچ میں مسیح پر لعنت بھیج دی۔ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر مسیح کو سولی پر لٹکوا نا گوارا کر لیا لیکن میں بعد کی بات کر رہا ہوں۔جب مسیح نے قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو اس وقت ان کے اندر ایک عظیم الشان انقلاب برپا ہوا ہے اور وہی انصار جو ڈرے ڈرے، چھپے چھپے کمزور دکھائی دیتے تھے انہوں نے پھر اتنی عظیم الشان قربانیاں پیش کی ہیں کہ تاریخ نبوت میں حضرت محمد مصطفے ہے کے دور کے سوا آپ کو کہیں ایسی عظیم الشان قربانیاں دکھائی نہیں دیں گی۔تین سو سال کے عرصہ پر پھیلی ہوئی ایسی دردناک قربانیاں ہیں اور ایسی مستقل مزاجی رکھنے والی قربانیاں ہیں کہ جن میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی کبھی کوئی کمزوری نہیں آئی ایک نسل بھی بعض دفعہ قربانیاں کرتے ہوئے تھک جاتی ہے اور یہ پوچھنا شروع کر دیتی ہے کہ کب خدا کی مدد آئے گی؟ کب ہمارے دن بدلیں گے؟ لیکن مسیح کی دعوت پر جن لوگوں نے نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ کہا کہ ہم انصار اللہ ہیں انہوں نے اس وعدہ کا حق ادا صلى الله