خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 506

خطبات طاہر جلدا 506 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۲ء منتقل ہو جائے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اسی طرح لذت پاتے تھے۔آپ ہمیشہ اپنے آقا ومولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ پر نظر رکھتے تھے اور آپ کی مہمان نوازی کی لذت آپ کو حضور اکرم اللہ سے عطا ہوا کرتی تھی اور یہ رشتے چلتے چلتے لازماً خدا تک پہنچتے ہیں۔پس ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اگر چہ درمیان میں وسیلے تو موجود ہیں لیکن اچا نک وسیلے غائب ہوتے دکھائی دیتے ہیں اور انسان خدا کی حضور میں آجاتا ہے اور اس کی لذتیں لافانی ہو جاتی ہیں۔پس ان لذتوں کی تلاش کریں انہی کے ساتھ آپ کے حسن خلق میں دوام ہو گا آپ کا حسن خلق آپ کی ذات میں قرار پکڑ جائے گا آپ کے وجود کا حصہ بن جائے گا۔اگر بوجھ کے ساتھ اخلاق برتیں گے وہ ایک عارضی اور فانی چیز ہو گی آج آئے اور کل چلے گئے کسی مشکل وقت میں وہ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے لیکن جو اخلاق اعلیٰ اور پاک نمونوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں، جو دل میں لذت پیدا کرتے ہیں وہ ہر مشکل وقت ساتھ دیتے ہیں اور وفا کرتے ہیں اور کبھی انسان کو نہیں چھوڑتے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان فرماتے ہیں۔جب میں ۱۹۰۵ء میں ہجرت کر کے قادیان چلا آیا اور اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لایا۔اس وقت میرے دو بچے تھے۔حضور کے رہائشی صحن کے ساتھ والے کمرے میں رہتے تھے اور حضوڑ کے بولنے کی آواز میں سنائی دیتی تھیں۔ایک شب کا ذکر ہے کہ کچھ مہمان آئے جن کے واسطے جگہ کے انتظام کے لئے حضرت اماں جان حیران ہو رہی تھیں کہ سارا مکان پہلے ہی کشتی کی طرح پر ہے اب ان کو کہاں ٹھہرایا جائے۔اس وقت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اکرام ضیف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت بیوی صاحبہ کو پرندوں کا قصہ سنایا۔۔۔اب یہ قصہ تو ظاہر ہے کہ ان معنوں میں بے حقیقت ہے کہ ایک فرضی قصہ ہے عملی دنیا میں یہ ہو نہیں سکتا ناممکن بات ہے لیکن پرانے زمانے میں یہ رواج تھا کہ قصوں کی صورت میں اخلاقی تعلیم دی جاتی تھی۔اس میں جانور بھی باتیں کرتے تھے ، بولتے تھے ،اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا کرتے تھے اور کہانی سننے والے کو ایک اخلاق نصیب ہو جایا کرتا تھا۔پس ان معنوں میں نہ کہ اُسے حقیقت سمجھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت اماں جان کو ایک قصہ سنایا۔مفتی صاحب کہتے ہیں ہم نے وہ سارا قصہ سنا کیونکہ وہ آواز پتلی دیواروں سے ہمیں صاف پہنچ رہی تھی فرمایا۔”دیکھو ایک دفعہ ایک مسافر کو جنگل میں شام ہوگئی وہ درخت کے