خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 106
خطبات طاہر جلدا 106 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء آپ زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکیں گے۔پس دوسری بات منصوبہ بندی کی ہے۔ایک منصوبہ بندی کا میں نے ذکر کیا تھا کہ جماعتوں کو ملکی سطح پر بھی اور مقامی سطح پر بھی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔آج میں انفرادی منصوبہ بندی سے متعلق بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔سب سے پہلے تو منصوبہ بندی کی اہمیت آپ پر واضح کرنے کے لئے میں نے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کا انتخاب کیا جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ تقدیر کا مالک ہے اور قرآن کریم میں كُنْ فَيَكُونُ (البقرہ:۱۱۸) کا جو ذکر ہمیں ملتا ہے اس سے یہی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی بات کے متعلق فیصلہ کرے اور کہہ دے کہ یہ ہو جائے تو وہ ہو کر رہتی ہے۔یہ بات درست ہے اور یہ تاثر درست ہے لیکن یہ بہت مختصر سی بات ہے۔کیسے ہوتی ہے اور کیونکر رونما ہوتی ہے؟ اس کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل سے مختلف جگہ ملتا ہے اور بار ہا خدا تعالیٰ اس سلسلہ میں تدبیر کا ذکر فرماتا ہے۔باوجود اس کے کہ وہ قادر مطلق ہے جس چیز کا فیصلہ چاہے آنا فانا بھی کر سکتا ہے لیکن فرماتا ہے کہ میرے وقار اور میری شان کے خلاف ہے کہ بغیر کسی حکمت اور بغیر کسی تدبیر کے کسی چیز کو ظاہر کروں۔پس میرے حکم کے ساتھ تدبیر کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے۔پس یہاں تدبیر کا تعلق ثانوی ہے۔جو تقدیر کے ماتحت ہے سب سے پہلے خدا کی تقدیر ظاہر ہوتی ہے پھر وہ تقدیر تدبیر کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور اسی سے پھر قانون قدرت جاری ہوتے ہیں اور ہر قسم کی تخلیق کا نظام چلتا ہے۔قرآن کریم کی جو آیت کریمہ میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے یہ سورۃ الرعد کی تیسری آیت ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَوتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا اللہ کی ذات وہ ذات ہے کہ جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں پر بلند کر رکھا ہے۔جن کو تم دیکھ نہیں سکتے بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا کا ایک مطلب یہ ہے کہ بغیر ستونوں کے جن کو تم دیکھتے ہو لیکن اس کا معنی وہی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے کہ ایسے ستونوں کے بغیر بلند کئے رکھا ہے جن کو تم دیکھ سکتے ہو یعنی وہ ستون جو تمہیں نظر آتے ہیں جن کو تم عام طور پر دیکھتے ہو۔ویسے ستون استعمال نہیں فرمائے بلکہ نہ نظر آنے والے ستونوں پر اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو اپنے اپنے مقام پر سنبھال رکھا ہے ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یہ سب نظام مکمل کرنے کے بعد پھر وہ اپنی کرسی