خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 987 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 987

خطبات طاہر جلد ۱۰ 987 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۹۱ء والی ہوتی ہیں۔پس اپنے زاویہ نگاہ کو درست یا نا درست کرنے والی بات ہے۔یہ وہ مضمون ہے جسے دنیا کا ہر انسان سمجھتا ہے یا سمجھ سکتا ہے چاہے اسے مذہب کی دنیا میں اطلاق کرے یا نہ کرے کسی نہ کسی محبت کا تجربہ ہر انسان کو ہوتا ہے اور محبت بھی تو کچھ پابندیاں عائد کرتی ہے۔محبت بھی تو بہت سے تقاضے کیا کرتی ہے ان تقاضوں کو پورا کرنے میں ہی محبت کرنے والے کی لذت ہوا کرتی ہے ، ان تقاضوں سے انحراف کے نتیجہ میں زندگی کا لطف پیدا نہیں ہوتا۔محبت کی بھی بے شمار قسمیں ہیں۔ان میں سے ایک ماں کی بچے کیلئے محبت۔میں آپ کے سامنے مثال کے طور پر رکھتا ہوں کہ ماں کی بچے سے محبت کے تقاضے بعض دفعہ اتنے شدید ہو جاتے ہیں اور اتنے تکلیف دہ ہوتے ہیں کہ انسان ان کے تصور سے بھی کانپتا ہے اور ماؤں کو بڑے رحم کی نظر سے دیکھتا ہے جن کے بیمار بچے ساری رات ان کو بلاتے اور ان سے کسی نہ کسی مدد کے تقاضے کرتے چلے جاتے ہیں۔خواہ وہ مدد کر سکیں یا نہ کرسکیں اور بسا اوقات ماں مدد کرنے سے عاری ہوتی ہے، نہیں کر سکتی ، بچے کا دکھ دور نہیں کر سکتی۔اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے دیکھتی ہے۔جانتی ہے کہ وہ غلط کہہ رہا ہے کہ ماں ! نہ سو۔میرے ساتھ جاگ اور میرے ساتھ تکلیف اٹھا۔وہ جانتی ہے کہ میرا جا گنا میرے ساتھ تکلیف اٹھانا اس بچے کے کسی کام نہیں آئے گا لیکن محبت کا تقاضا ہے۔اسے نیند میں عذاب ملتا ہے اسے جاگنے میں راحت نصیب ہوتی ہے۔وہ جتنا بیمار بچے کے قریب ہو، جتنا اس کے دکھ کو اپنے قلب پر وار دکرے،اس کے دکھ کا احساس کرتے ہوئے اس تکلیف کو اپنانے کی کوشش کرے، اتنا ہی اس کو کچھ سکون ملتا ہے۔لیکن یہ واہمہ بھی اس کے لئے جہنم کے واہمہ کی طرح ہے کہ وہ اپنے بیمار تڑپتے ہوئے بچے کو چھوڑ کر اسلئے سو جائے کہ فائدہ تو میں کچھ پہنچا نہیں سکتی ، کیوں نہ کچھ آرام کروں۔تو اسلام کو جس قید خانے کی صورت میں حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے ہمارے سامنے رکھا وہ ان معنوں میں نہیں تھا کہ تم ہمیشہ قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہو کر زندگی گزار و اور تمہاری زندگی عذاب بن جائے بلکہ سب سے بڑے قیدی اس قید خانے کے تو حضرت محمد مصطفی علی وہ خود تھے۔کہنے والا جانتا تھا کہ اس قید کے کیا تقاضے ہیں اور اس قید کے کیا فوائد ہیں اور کہنے والا جانتا تھا کہ یہ وہی قید ہے کہ ایک لمحہ بھی میں اس قید سے باہر کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے اس قلبی رجحان کو اللہ جل شانہ نے ہم پر ایک ایسے راز کے طور پر کھولا جو بہت ہی مقدس راز محبت اور پیار