خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 983 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 983

خطبات طاہر جلد ۱۰ 983 خطبہ جمعہ ۲۰/ دسمبر ۱۹۹۱ء میں وہ سانس بھی ہیں جو دنیا کے بہت سے بد نصیب بھی تو لیا کرتے تھے اور آج بھی لیتے ہیں۔ایسے بدنصیب جنہوں نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کا زمانہ پایا اور سارا زمانہ ان سانسوں کو نور رسالت کے بجھانے کیلئے استعمال کیا۔اس کو ہوا دے کر فروغ کر دینے کیلئے استعمال نہیں کیا۔تو یہ ظاہری اور جذباتی چیزیں مجھے بے حقیقت دکھائی دینے لگیں۔وہ جذباتی لطف جو یہاں آکر آیا تھا۔اس میں ایک اور پیغام بھی مجھے ملا کہ حقیقت میں ان سانسوں کی جب تک ہم قدر کرنا نہ جانیں جو محمد مصطفیٰ کے سانس تھے یا آپ کے غلام کامل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سانس تھے۔اس وقت تک ہم ان سانسوں سے برکت پانے کے اہل نہیں ہو سکتے کیونکہ مدینہ کی فضا بھی حضرت محمد مصطفی امیہ کے سانسوں سے بھری پڑی تھی۔وہ کتنے بدنصیب تھے جوان سانسوں کو لیتے تھے لیکن ان سے برکت نہ پاتے تھے۔پس نظام برکت ایک روحانی نظام ہے اس کے لئے ہر انسان کو اہلیت پیدا کرنی چاہئے۔جس طرح دنیا میں ایک نظام انہضام ہے، جب تک نظام انہضام درست نہ ہو قطع نظر اس بات کے کہ غذا اچھی ہے یا بری، انسان کو اس غذا سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ایک شخص جس میں بعض اچھی غذاؤں کو ہضم کرنے کی طاقت ہی نہ ہو ، بعض دفعہ جب وہ ایسی غذا استعمال کرتا ہے تو رد عمل پیدا ہوتا ہے اور فائدے کی بجائے نقصان پہنچتا ہے۔دودھ کو دیکھئے کیسی کامل غذا ہے کہ دواڑھائی سال تک بچہ مکمل طور پر محض دودھ پر پلتا ہے اور اسی سے اپنی آنکھیں بناتا ہے،اپنے دانت بنانے کی تیاری کرتا ہے ، جسم کا ہر عضلہ اسی دودھ سے پرورش پا کر بنتا ہے ہڈیاں بن رہی ہیں ، ناخن بن رہے ہیں، بال بن رہے ہیں، تمام جسم کے اعضاء خواہ کسی نوعیت کے ہوں اسی ایک دودھ سے قوت پا کر نشو و نما پاتے چلے جاتے ہیں لیکن جن کو دودھ کی الرجی ہو ، جو دودھ ہضم نہ کرسکیں ، وہ جب دودھ پیتے ہیں تو مرنے کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔مجھے چونکہ ہومیو پیتھک علاج کا تجربہ ہے اس لئے بعض مریض میرے سامنے ایسے بھی لائے گئے۔مثلاً انگلستان میں ایک بچے کے متعلق بتایا گیا کہ دودھ کا ایک قطرہ بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا اور دن بدن اس کی صحت گرتی چلی جارہی ہے۔دودھ دیں تو پیٹ میں درد شروع ہو جاتا ہے۔یا الٹیاں آجاتی ہیں یا قے شروع ہو جاتی ہے یا اسہال لگ جاتے ہیں الغرض کئی قسم کے وبال چمٹ جاتے ہیں۔چنانچہ میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا علاج کیا