خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 982 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 982

خطبات طاہر جلد ۱۰ 982 خطبه جمعه ۲۰ / دسمبر ۱۹۹۱ء صد الکر سعادت ہے۔خدا تعالی نے چوالیس سال کے انقطاع کے بعد خلیہ اسح کو آج قادیان میں جمعہ پڑھانے کی سعادت عطا فرمائی۔جو لوگ پیچھے رہ گئے اور جو آج ہمارے ساتھ شامل نہیں خصوصاً وہ لوگ جو اسیران راہ مولیٰ ہیں، جو ایسے مجبور ہیں ، ایسے بے بس ہیں کہ خواہش کے علاوہ اگر ان میں ویسے دنیاوی لحاظ سے استطاعت ہوتی بھی تو یہاں نہ آ سکتے۔ان سب کو خصوصیت سے نہ صرف آج اپنی دعاؤں میں یادرکھیں بلکہ اس دوران یعنی جلسے کے ایام اور جلسے کے شب وروز میں مسلسل جب بھی آپ کو توفیق ملے آپ ان سب غیر حاضرین کو اپنی دعاؤں میں یا در کھتے رہیں۔سی وہ دن ہیں کہ جب سے ہم یہاں آئے ہیں خواب سا محسوس ہو رہا ہے یوں لگتا ہے جیسے خواب دیکھ رہے ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ یہ خواب نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر ہے۔ایسے خوابوں کی تعبیر جو مدتوں، سالہا سال ہم دیکھتے رہے اور یہ تمنا دل میں کلبلاتی رہی ، بلبلاتی رہی کہ کاش ہمیں قادیان کی زیارت نصیب ہو۔کاش ہم اس مقدس بستی کی فضا میں سانس لے سکیں جہاں میرے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفی مے کے کامل غلام مسیح موعود علیہ السلام سانس لیا کرتے تھے۔جب میں یہاں آیا اور میں نے اس بات کو سوچا کہ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ایسی فضا میں دوبارہ سانس لیں گے۔تو مجھے بچپن میں پڑھا ہوا سائنس کا ایک سبق یاد آ گیا۔جس میں یہ بتانے کے لئے کہ جتنے ایک انسان کے سانس میں ایٹم (Atoms) ہوتے ہیں ان کی تعداد کتنی ہے۔وہ مثال دیا کرتے تھے کہ سیزر نے جو آخری دفعہ مرتے وقت ایک سانس لیا تھا اس سانس میں اتنے ایٹم تھے کہ اگر وہ برابر ساری کائنات میں ،ساری فضا میں تحلیل ہو جائیں اور برابر فاصلے پر چلے جائیں تو ہر انسان جو سانس لیتا ہے اس کے ایک سانس میں سیزر کے سانس کا ایک ایٹم بھی ہوگا۔تو جب میں نے سوچا تو مجھے خیال آیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں لکھوکھا مرتبہ سانس لئے ، یہ فضا تو آپ کے سانسوں کے ان اجزاء سے بھری پڑی ہے اور ہر سانس میں خدا جانے کتنے ہزاروں ، لاکھوں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سانس کے ایٹم ہوں گے جو آج ہم بھی Inhale کرتے ہیں۔یہ سوچتے ہوئے میرا خیال حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی طرف منتقل ہوا تو مجھے خیال آیا کہ زمین کا سارا جو اُس ہوا سے بھرا پڑا ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی امی ﷺ اپنی سانسوں میں کھینچا کرتے تھے اور نکالا کرتے تھے۔جب میں یہاں تک پہنچا تو اس ظاہری خوشی میں کچھ کدورت پیدا ہوگئی کیونکہ میں نے سوچا کہ انہی