خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 977 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 977

خطبات طاہر جلد ۱۰ 977 خطبہ جمعہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۹۱ء توفیق عطا فرمائی ہم پر بھی ایسے افضال کی بارش فرما، ایسے نمونے ہم پر ظاہر فرما۔یہ دعا ہے جو بعض دفعہ انسان عام طور پر روز کرتا رہتا ہے لیکن اس دعا میں وہ اثر نہیں پیدا ہوسکتا جتنا کسی واقعہ کو دیکھ کر یا پڑھ کر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی دعا میں اثر ہوا کرتا ہے۔اس نکتہ کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں ور نہ دعوت الی اللہ کرنے والے کہیں گے کہ ہمیں ان واقعات کو پڑھنے کی کیا ضرورت ہے ہم روزانہ یہی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں نشان دے اے اللہ ! ہمیں برکت دے۔اے خدا! ہمارے ہاتھ سے معجزات رونما فرما۔یہ خالی منہ کی باتیں ہیں۔دعا میں ایک گہرا اثر ہونا چاہئے اور وہ اثر یونہی منہ کی باتوں سے پیدا نہیں ہوا کرتا۔قرآن کریم نے اس کی مثال دی ہے۔چنانچہ حضرت زکریا کے متعلق فرمایا کہ وہ مدتوں سے دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! مجھے اولاد دے۔مجھے بیٹا دے اور اس مضمون کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ساری عمر یہ دعا کی اور مایوس نہیں ہوئے لیکن اس دعا میں وہ اثر پیدا نہیں ہوا جواس واقعہ کے بعد ہوا کہ آپ ایک دفعہ حضرت مریم کے حجرہ میں گئے۔وہاں آپ نے اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے عظیم نشانات دیکھے۔وہ رزق دیکھا جو حضرت مریم کو عطا ہورہا تھا۔اس کے نتیجہ میں اس کے حوالے سے آپ کے دل میں ایک عجیب ولولہ اٹھا ہے اور اس پر آپ نے دعا کی ہے کہ اے رب! مجھے بھی ایک پاک بیٹا عطا کر۔مجھے بھی ایسا بیٹا عطا کر جو تیرے نام کو بلند کرنے والا ہو جو تیرے نور کو دنیا میں پھیلانے والا ہو اور میری اچھی باتوں کو میرے بعد زندہ رکھنے والا ہوتا کہ میرے شریک یہ طعنہ نہ دیں کہ اس کی اچھائیاں اس کے ساتھ ہی مرگئیں وہ میری نیکیوں کا وارث ہو۔وہ دعا جس جذبہ سے اٹھی ہے وہ ایسا جذبہ تھا کہ جس کے نامقبول ہونے کا سوال ہی نہیں تھا اور جب آپ نے یہ دعا کی کہ اے خدا! میرے تو بال سفید ہو گئے ، میری ہڈیاں گل گئیں یہ دعا کرتے کرتے ، اب میں اے خدا ! یہ دعا کرتا ہوں کہ تو قبول فرما۔میں تجھ سے مایوس نہیں ہوں تو معا اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ہاں! ہم تجھے ایک بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام کی ہوگا، ایسا نام جواس سے پہلے کبھی دنیا نے نہیں سنا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر حضرت سکی اسی شان کے ساتھ پیدا ہوئے جس شان کے ساتھ آپ کی خوشخبری دی گئی تھی اور آپ کی زندگی کے متعلق تو خیر ایک الگ لمبا مضمون ہے۔میں واپس اس مضمون کی طرف آتا ہوں کہ دعاوہی ہوتی ہے جو مختلف وقتوں میں کی جاتی ہے مگر بعض دفعہ وہ دعا اثر سے لبریز ہو جاتی ہے اور بعض دفعہ وہ دعا ایک سرسری سی دعا رہتی ہے۔میں یہ نہیں کہ رہا کہ نعوذ باللہ