خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 978 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 978

خطبات طاہر جلد ۱۰ 978 خطبہ جمعہ ۱۳ / دسمبر ۱۹۹۱ء حضرت زکریا سرسری دعا کیا کرتے تھے۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک نبی جو دل کی گہرائی سے دعا کرتا ہے اس کی دعاؤں میں بھی مختلف وقتوں میں مختلف اثرات ہوتے ہیں۔عام آدمی کی دعاؤں میں بھی مختلف وقتوں میں مختلف اثرات ہوتے ہیں مگر جب کسی خاص واقعہ سے دل پر بہت گہرا اثر پڑا ہوا ہو تو اس وقت کی دعا اور رنگ رکھتی ہے۔پس جب آپ بزرگوں کے اچھے واقعات پڑھیں دل پر اثر کرنے والے واقعات پڑھیں تو جس نوعیت کے وہ واقعات ہوں اس نوعیت کی جو د عادل سے اٹھے گی وہ عام دعاؤں کے مقابل پر زیادہ اثر رکھنے والی ہوگی۔پس دعوت الی اللہ کرنے والے تو سادہ لوگ ہیں۔اکثر علم کے لحاظ سے بھی بہت پیچھے ہیں کمزور ہیں۔جذبہ ہے کہ ہم دعوت الی اللہ کرنا چاہتے ہیں اور کرنے کے لئے اپنا نام پیش کر دیتے ہیں مگر ان سے سلیقے کے ساتھ کام لینا ان کی ضروریات کو پورا کرنا ان کی تربیت کرنا ، ان پر نظر رکھنا ان کی موقع بہ موقع مدد کرتے رہنا اور ان کو دن بدن دعوت الی اللہ کے کام کے لئے زیادہ تیار کرتے رہنا یہ سارے کام نظام جماعت کے کام ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اور جو ذرائع میں نے آج آپ کے سامنے رکھے ہیں ان کو اگر آپ استعمال کریں تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس سے انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی دعوت الی اللہ کے کام میں بہتری کی طرف نمایاں فرق پیدا ہوگا اور اس کے علاوہ چند باتیں ہیں۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اگلے خطبہ میں میں ان کو بیان کرسکوں گا کہ نہیں مگر انشاء اللہ اس موضوع پر وقتا فوقتا آپ سے مخاطب ہوتا رہوں گا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اس عظیم الشان کام کو اس طرح سرانجام دیں جس طرح جماعت احمدیہ سے توقعات کی گئی ہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ سے توقعات کی گئی ہیں تو یا د رکھیں کہ ہم سے یہ توقع کی گئی ہے کہ اسلام کی بعثت ثانیہ میں تبلیغ کے کام کو جماعت احمد یہ اپنے منتظمی تک پہنچا دے گی اور اولین کے دور میں جو عظیم الشان کام حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ہاتھوں سے جاری ہوا آخرین کے دور میں آپ ہی کے غلام کامل اور عاشق عاشق حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے گا یہاں تک کہ ساری دنیا اسلام میں داخل ہو جائے گی یہ توقع ہے اور یہ توقع آپ سے خدا تعالیٰ نے کی ہے۔اس توقع کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے کہ ایک ایسا روحانی وجود پیدا ہوگا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ملنے کے دعوت الی اللہ کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے گا۔یہ وہ وعدہ ہے جو قرآن کریم میں دیا گیا ہے۔جس کے متعلق بہت سے بڑے بڑے پرانے مفسرین اور بزرگ بیان