خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 973
خطبات طاہر جلد ۱۰ 973 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ء رسول صاحب را صاحب راجیکٹ کے مناظرے ہیں۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صا۔ صاحب کے ،حضرت خلیفہ اصبح الاول رضی اللہ عنہ کے ، حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے ، اس طرح کے بہت بڑے بڑے بزرگ علماء ہیں جن کے علم وفضل کے سامنے انسان اپنے آپ کو ایک بالکل معمولی اور بے حیثیت انسان سمجھنے لگتا ہے۔ جب آپ ان کے واقعات پڑھیں تو ان کا رعب دل پر قائم ہوتا ہے۔ وہ پہاڑوں کی طرح آپ کے سامنے بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تو ایسے واقعات کا انتخاب الگ ہو جس سے جماعت میں اپنا علم بڑھانے کا شوق پیدا ہو اور دیگر مذاہب کے مطالعہ کا شوق پیدا ہو۔ اس کے علاوہ فن مناظرہ کے لحاظ سے برجستہ دلچسپ جواب دینے کا فن بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض صحابہ کو بطور خاص حاصل تھا اور اس اعتبار سے بہت بڑے بڑے دلچسپ واقعات ہیں ۔ بڑے لطائف پیدا ہوا کرتے تھے جب کہ دشمن سمجھتا تھا کہ ہم نے زیر کر لیا ہے۔ اچانک اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جواب دینے والے کو خدا تعالیٰ ایسی بات سمجھا دیتا تھا کہ اچانک صورت حال دشمن پر پلٹ جاتی تھی تو اس قسم کے جو واقعات ہیں وہ اپنے اندر ایک خاص لطف رکھتے ہیں اور ان کو پڑھنے کے بعد انسان کا ذہن حاضر دماغی کی طرف منتقل ہوتا ہے، برجستہ جوابات دینے کا سلیقہ اس کو آتا ہے اور اس کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کی بھی تبلیغ کے میدان میں بڑی ضرورت ہے کیونکہ نیک نصیحت کے بعد پھر قرآن کریم فرماتا ہے کہ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ۱۲۶) که پھر اگر عقل اور فہم اور دلائل کی لڑائی شروع ہو جائے تو جَادِلْهُمْ خوب لڑوان کے ساتھ لیکن احسن طریق پر ۔ اس طرح لڑو کہ تمہاری دلیلیں زیادہ حسن رکھنے والی ہوں تمہارا طرز مجادلہ زیادہ حسین ہو اور زیادہ دلکش ہو تو یہ سب باتیں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے تبلیغی واقعات میں نظر آتی ہیں۔ پھر دعاؤں کے مقابلے ہیں ۔ جب انسان آگے کوئی راہ نہیں پاتا تو دعاؤں کا مضمون شروع ہو جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ نے جہاں بھی دعاؤں سے کام لیا ہے خدا تعالی نے حیرت انگیز نشانات ان کے لئے ظاہر فرمائے ہیں اور آپ جب ان واقعات کو پڑھیں تو حیران ہوں گے کہ آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے خاندانوں کے جدامجد دعاؤں کے طفیل احمدی ہوئے تھے اور بعض خاندان کے افراد کو اپنا پتہ ہی نہیں کہ ہمارے خاندان میں احمدیت کیسے آئی