خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 972
خطبات طاہر جلد ۱۰ 972 خطبہ جمعہ ۱۳؍ دسمبر ۱۹۹۱ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کا اس لئے خصوصیت سے ذکر کیا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفے کے زمانہ کے دعوت الی اللہ کے واقعات بہت کم محفوظ ہیں حالانکہ اس زمانہ میں اس کثرت سے دعوت الی اللہ ہوئی ہے اور کوئی بھی پیشہ ور خدمت کرنے والا نہیں تھا جو باقاعدہ تنخواہ دار ہو۔اس کے با وجود تمام صحابہ نے آنا فانا عرب میں بھی اور عرب سے باہر دوسرے ممالک میں بھی اسلام کا پیغام پہنچایا۔تو بغیر دعوت الی اللہ کے تو یہ ممکن نہیں تھا لیکن افسوس ہے کہ ان تفاصیل کا کہیں ذکر نہیں ملتا ان تجارب کا ذکر نہیں ملتا، کیا کیا باتیں ہوئیں اور کس طرح ان کو جوابات دیئے گئے ، کیا مشکلات پیش آئیں۔کس طرح ان مشکلات پر قابو پایا گیا، دعائیں کی گئیں معجزات رونما ہوئے ، ان کا تفصیلی ذکر نہیں ہے۔منجملہ تاریخ میں صرف ان باتوں کا پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔مگر چونکہ دعوت الی اللہ کی تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دہرائی گئی ہے اس لئے اس تازه تاریخ سے ہم استفادہ کر کے یہ بھی اندازہ کر سکتے ہیں کہ پہلے کیا ہوتا ہوگا، کون سی چز میں تھیں جو کامیاب ہوئی ہیں۔اس قسم کی کتب اگر ضخیم کتب کی شکل میں پہنچائی جائیں تو بعض دفعہ ایسا فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ ہر شخص کے پاس وقت نہیں ہوتا کہ وہ زیادہ ضخیم کتابوں کا مطالعہ کر سکے۔اور ایک دفعہ اگر مطالعہ کر بھی لے تو ایک دفعہ ہی اس کی سیری ہو جائے گی لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ سیری نہ ہو بلکہ بار بار ہو اس لئے چھوٹے چھوٹے رسائل ان مضامین کے شائع ہوتے رہیں خواہ آپ کے ملکی رسائل میں یہ مضامین شائع ہوں یا چھوٹے چھوٹے پمفلٹس کی شکل میں صرف دعوت الی اللہ کرنے والوں کو انگیخت کرنے کے لئے اور ان کے جذبے دوبارہ بیدار کرنے کی خاطر چھپوائے جائیں اور ان تک پہنچائے جائیں تو اس سے مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ عموماً بہت فائدہ پہنچے گا۔پھر ایسے ایمان افروز واقعات کا انتخاب اچھا ہونا چاہئے اور کسی خاص منصوبے کے ماتحت ہونا چاہئے۔اتفاقی طور پر نہ ہو۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض صحابہ مختلف مذاہب کا گہرا علم رکھتے تھے اور جب بھی آپ ان کے تبلیغی واقعات کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں کہ ان کو مختلف مذاہب کا ذاتی طور پر اتنا گہر اعلم تھا اور مناظرے کے دوران مد مقابل ان کو دھوکا نہیں دے سکتا تھا۔اس قسم کے واقعات جب کوئی پڑھتا ہے تو لازماً اس کی توجہ اپنا علم بڑھانے کی طرف ہوتی ہے اور اس کا بھی دل چاہتا ہے کہ میں بھی ایسا عالم فاضل بنوں۔حضرت مولوی غلام