خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 962 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 962

962 خطبہ جمعہ ۱۳ / دسمبر ۱۹۹۱ء خطبات طاہر جلد ۱۰ کرنے والوں کو بڑی شرمندگی ہوتی ہے۔جب اصل کتاب دکھائی جائے تو وہاں سے کچھ بھی نہیں نکلتا حالانکہ حوالے موجود ہیں۔پھر تر جموں سے متعلق اعتراضات کئے جاتے ہیں کہ یہ ترجمہ ہم تسلیم نہیں کرتے اور اس کے مستند ترجمہ کرنے والے کی کتاب پیش کی جانی ضروری ہے اور ایک سے زیادہ ایسے ترجموں کے حوالے دینے چاہئیں جو مد مقابل کو منظور ہوں اس لئے بہت ضروری ہے کہ حوالوں کے سلسلہ میں دعوت الی اللہ کے مرکز میں کچھ ایسا مواد موجود ہو جسے تبلیغ کا شوق رکھنے والے، روزمرہ اگر وہ آسکتے ہیں ورنہ کبھی کبھی جب بھی آسکیں ، آکر دیکھیں ، ان حوالوں کا مطالعہ کریں، اور خود تسلی پکڑ لیں کہ ہاں یہ چیز اس شکل میں فلاں جگہ موجود ہے ، اس سلسلہ میں ایک دقت یہ ہے کہ اگر یہ ساری اصل کتب مہیا کی جائیں تو بہت ضخیم لائبریری بن جائے گی۔اس لئے ہم نے اس کا یہ علاج سوچا ہے کہ اصل کتاب سے فوٹوسٹیٹ یعنی عکسی تصویر میں اتار کر ان کے حوالے وہاں اکٹھے کر دیے جائیں اور منضبط کر دئیے جائیں تا کہ جس طرح کمپیوٹر کے ذریعہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں اسی طرح ان حوالوں تک پہنچنے کے لئے کوئی ایسا چھوٹا سا کتابچہ ہو جس کی مدد سے ایک شخص معین طور پر معلوم کر سکے کہ جس حوالے کی مجھے ضرورت ہے اس کی عکسی تصویر کہاں ہے اور عکسی تصویر کی کچھ کتابیں بنوائی جاسکتی ہیں وہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔اس سلسلہ میں ایک دو عکسی تصویروں کی کتابیں بنوا کر ہم نے ایک دفعہ تمام مشنز کو بھجوائی بھی تھیں جو روزمرہ کے استعمال ہونے والے جماعت کے حوالے ہیں۔وہ پر مشتمل تھیں لیکن ہر مذہب کے لئے خصوصی حوالوں کی کتابیں تیار ہونی چاہئیں۔ایک دفعہ میں کوئٹہ میں ایک مجلس سوال و جواب میں شامل ہوا تھا وہاں ایک شخص نے اعتراض کر دیا کہ آپ پرانوں کا حوالہ دے کر حضرت مسیح کے کشمیر کے سفر کا ذکر کرتے ہیں لیکن جو حوالہ آپ نے دیا ہے یہ تو ہے ہی نہیں یہ حوالہ غلط ہے اور میں ثابت کر سکتا ہوں۔ان کے پاس کوئی ایسی کتاب ہوگی جس میں وہ حوالہ مختلف طریق پر درج ہو گا یا مختلف صفحوں پر درج ہوگا۔ہمارے درج کرنے والے نے جس کتاب کا حوالہ دیا اس کے صفحے اور تھے، اس کی ترتیب اور تھی ، تو اس وقت فوری طور پر تو میں اس کے چیلنج کو قبول نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میں خود نہیں جانتا تھا کہ وہ حوالہ کہاں ہے اور اس کا ترجمہ بھی درست ہے یا نہیں لیکن میں نے اس سے کہا کہ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ حوالہ درست موجود ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے۔اس میں غلطی کا کوئی دور کا بھی شائبہ نہیں ہے لیکن میں جا کر تلاش ان پر