خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 963 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 963

خطبات طاہر جلد ۱۰ 963 خطبہ جمعہ ۱۳ / دسمبر ۱۹۹۱ء کروں گا۔کوئٹہ سے ربوہ آکر تلاش کرنے کے بعد اس حوالے کا علم ہوا اور یہاں انگلستان آنے کے بعد ایک پنڈت کو میں نے وہ حوالہ بھجوایا اور ان سے درخواست کی کہ آپ خود اس کا ترجمہ تفصیل سے کر کے دیں تفصیل سے مراد یہ تھی کہ اس حوالے سے کچھ پہلے کی آیات کا بھی اور کچھ بعد کی آیات کا بھی یا آیات نہ کہیں تو فقرات کا ترجمہ تا کہ سیاق و سباق کا علم ہو سکے۔انہوں نے جب وہ ترجمہ کر کے بھیجا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہمارے ہاں شروع سے جو تر جمہ مروج ہے اس کے مقابل پر یہ ترجمہ ہماری بہت زیادہ تائید کرنے والا ہے۔مثلاً اس حوالے میں راجہ شال باہن کا ذکر ہے ، یوز آسف کا ذکر ہے لیکن مسیح کا ذکر نہیں ملتا۔ہمارے ترجمے جو عام طور پر مروج ہیں ان میں مسیح کا نام نہیں ملتا۔لیکن یہ ہندو پنڈت جس کو علم بھی نہیں تھا کہ میں کیوں اس کا ترجمہ کروارہا ہوں ، اس نے جب یوز آسف کا ذکر کیا تو یوز آسف کے ضمناً ایک ذکر کے بعد جب اس کا اصل ذکر اس طرح آتا ہے کہ راجہ شمال باہن کا اس نئے آنے والے کے ساتھ سوال و جواب ہوا جس کو انہوں نے وادی میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پھرتے ہوئے دیکھا تھا تو اس سوال و جواب میں راجہ شال باہن نے جب اس آنے والے اجنبی سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے تو انہوں نے کہا: میجو اور سیج اور شیح یہ ایک ہی چیز کے دو تلفظ ہیں اور بعد میں بھی میحو نام سے وہ ذات مبارک اپنے آپ کو متعارف کراتی رہی اور اسی حوالے سے بات کرتی رہی۔چنانچہ جو تفصیلی حوالہ ہے وہ بہت زیادہ قوی شواہد ہماری تائید میں رکھتا ہے۔یہ جو ایک عادت پڑ چکی ہے کہ پرانے حوالے جس قسم کے بھی درج ہوئے ہیں ان کو اسی طرح لئے چلو اور اصل کو دیکھو ہی نا۔اس سے دعوت الی اللہ کے کام کو بہت نقصان پہنچتا ہے اور دعوت الی اللہ کرنے والے کا دماغ بھی وسعت اختیار نہیں کرتا۔یہ عادت پیدا کرنی چاہئے اور اس عادت کو پورا کرنے کے لئے سامان مہیا کرنے چاہئیں کہ دعوت الی اللہ کرنے والے جماعت کی طرف سے جو حوالے پیش کرتے ہیں وہ خود ان حوالوں کا مطالعہ کریں اور مختلف پہلوؤں سے ان کا مطالعہ کر کے۔جائزہ لے کر اپنے دل کو پوری طرح اطمینان دلائیں کہ جماعت احمد یہ جو بات کہتی ہے سو فیصدی درست ہے اور اگر کوئی اس کو چیلنج کرے تو اس کے مقابل پر اس کو بلا کر دکھا سکیں۔اصل کتاب کی فوٹوسٹیٹ اگر دکھا دی جائے تو اس سے بہت حد تک تسلی ہو جاتی ہے لیکن چونکہ یہ دعوت الی اللہ کے لئے قطعی ذریعہ ہے مگر آنے والا ممکن ہے یہ کہے کہ نہیں ! اصل کتاب دیکھنا چاہتا