خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 948 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 948

خطبات طاہر جلد ۱۰ 948 خطبہ جمعہ ۶/دسمبر ۱۹۹۱ء لقب درج نہیں پائیں گے۔یہ ایک عجیب شان ہے حضرت رسول اللہ ﷺ کی کہ اس شان میں خدا کا کوئی دوسرا نبی کسی علاقے کا کسی قوم کا کسی زمانے کا شریک نہیں ہے اور یہ وہ شان ہے جو تبلیغ کے لئے بڑی ضروری ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ کے سپر د عالمی ذمہ داریاں کی گئیں۔آپ سارے عالم کے لئے گہری کچی رحمت اپنے دل میں رکھتے تھے۔ایسی گہری اور کچی رحمت جس سے بسا اوقات ماؤں کے دل بھی نا آشنا ہوتے ہیں اور ہر ماں سے بڑھ کر بنی نوع انسان سے خدا تعالیٰ کی مخلوق سے آپ محبت کرنے والے تھے اور تبلیغ کے لئے یہ دلچسپی ہے جو دراصل کام آتی ہے۔مصنوعی دلچسپی کے ذریعے بھی ہیں اور ایک کوشش کرنے والے کو وہ بھی اختیار کرنے چاہئیں لیکن اگر وہ بچے ہوں۔جیسا کہ میں نے مثال دی یہ ایک مصنوعی طریق ہے کہ کسی شخص کی خوبی معلوم کرو، اس کی تعریف کرو لیکن وہ سچی ہو۔یہ کوئی طبعی طریق نہیں ہے، طبعی طریق وہی ہے کہ انسان رحمت ہو جائے۔ہر دوسرے انسان میں فطرتا اور قطعاً اس کے دل میں نرمی پائی جائے، شفقت پائی جائے، پیار کا جذبہ پایا جائے ، اس کی بھلائی پر متلاشی رہے۔جہاں کسی کو دکھی دیکھے، اس کا دکھ محسوس کرے اور اپنا دکھ مٹانے کی خاطر اس کی مدد کرے۔یہ وہ حقیقت ہے نفسیاتی جس کو بہت کم لوگ سمجھتے ہیں۔کسی کا دکھ سمجھ کر اس کی مدد کرنا ، بڑا مشکل کام ہے اور اسی لئے لوگ ایسے مشکل کام پر یا ہاتھ نہیں ڈالتے یا ہاتھ ڈالتے ہیں تو کامیاب نہیں ہوتے ہیں۔یہ اتنا بڑا بوجھ ہے جسے انسان برداشت نہیں کر سکتا۔غالب کہتا ہے: کون ہے جو نہیں حاجت مند کی حاجت روا کرے کوئی (دیوان غالب:۔۔) اگر کوشش کر کے ، جدوجہد کر کے عقل کو استعمال کر کے انسان لوگوں کے دکھ بٹانے کی کوشش کرے اور ان کی حاجت روائی کی کوشش کرے تو ایسا کام ہے جو انسان کے بس میں نہیں ہے بہت ہی مشکل ہے لیکن اگر فطرتا لوگوں کا دکھ اس کا دکھ خود بخود بن جایا کرے، لوگوں کے غم اس کے غم ہو جایا کریں، لوگوں کی تکلیفیں اس کی تکلیفیں بن جائیں تو اپنی تکلیف دور کرنے کی کون کوشش نہیں کرتا۔اپنے غم دور کرنے کی کون کوشش نہیں کرتا؟ وہ تو ایک فطری تقاضا ہے اس کوشش میں لذت ہے، اس کوشش میں بوجھ نہیں ہوتا۔پس ایسے لوگ جو فطرتاً دوسروں کے ہو جاتے ہیں اور طبعا ان کے دکھوں کو اپنا لیتے ہیں اگر چہ آپ بیرونی آنکھ سے دیکھیں تو ان کو بہت زیادہ بوجھوں کے تلے دبا ہوا