خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 942 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 942

خطبات طاہر جلد ۱۰ 942 خطبہ جمعہ ۶/ دسمبر ۱۹۹۱ء یہ کہہ کر کہ بعضوں نے ایسا کیا ان کا عمومی ذکر کیا تھا اس سے جماعت کو یہ سمجھ جانا چاہئے تھا کہ انفرادی طور پر ان لوگوں کو حقارت کا تحقیر کا نشانہ نہ بنائیں اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنا ئیں خود نصیحت پکڑیں لیکن ان کو ذلیل اور رسوا نہ سمجھیں۔عموماً یہی رد عمل جماعت کی طرف سے ظاہر ہوا ہے لیکن بعض لوگ جو عہدوں کے متعلق جانتے تھے کہ یہ عہدہ کس کے سپرد ہے انہوں نے کچھ ضرورت سے زیادہ اسے ذاتی مسئلہ بنالیا اور مجھے جو خطوط ملنے شروع ہوئے ان میں بھی یہ رجحان تھا کہ بہت سختی اور نفرت کے ساتھ ہم نے ان واقعات کو اور اس طرز عمل کو ر ڈ کرتے ہیں۔طرز عمل کو رڈ کرنا تو درست ہے لیکن جن اشخاص سے یہ باتیں رونما ہوئیں ان کے متعلق تحقیر آمیز رویہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔اللہ تعالی اس ابتلاء میں ہرشخص کو ڈال سکتا ہے، ہم میں سے ہر شخص میں کوئی نہ کوئی کمزوری ایسی ضرور ہے جس پر اگر خدا تعالیٰ کی ستاری کی چادر نہ رہے تو دنیا کے سامنے ہمارا جو وجود ظاہر ہو وہ قابل نفرت ٹھہرے، اس لئے ایسے موقع پر استغفار کرنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کے علاوہ ستاری طلب کرنی چاہئے اور جولوگ ان واقعات میں ملوث ہوئے ان پر رحم کرنا چاہئے نہ کہ نفرت۔ہاں جو معاملات قابل نفرت ہیں وہ قابل نفرت ہی ٹھہرتے ہیں۔اس تفریق کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ اپنے معاملات میں پیش نظر رکھا اور جماعت کو بھی اسی کی نصیحت فرماتے رہے کہ بعض باتوں سے نفرت ضروری ہے مگر انسانوں سے نفرت نہ کرو ان پر رحم کرو، ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔اس تمہید کے بعد اب میں یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ جرمنی کی مجلس عاملہ ہو یا اس سے باہر اگر کوئی لوگ اپنی غلطیوں کی وجہ سے ایک غلط رویہ اختیار کر کے ناراضگی کا موجب ٹھہرے تو انہوں نے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی غیر معمولی پاک تبدیلی کا نمونہ بھی دکھایا ہے۔تو بہ اور استغفار سے کام لیا اور کسی ایک کے متعلق بھی اب میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ دل کی گہرائی کے ساتھ میں اسے معاف نہیں کر چکا۔کلیہ ان میں سے ہر ایک کے معاملات میں اب میرا دل صاف ہے۔ایک دو ایسے مخلصین تھے جن کو ابھی تک بات پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی تھی اور میں خطبہ میں اس اعلان سے پہلے ان کو سمجھانے کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ سمجھ جائیں تو پھر میں عمومی اعلان کرسکوں ورنہ یہ کہنا پڑتا کہ ایک دو کے سوا باقی سب ٹھیک ہو چکے ہیں۔ٹھیک تو اللہ کے فضل سے وہ بھی تھے ہی دل کی گہرائی میں اخلاص