خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 943 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 943

خطبات طاہر جلد ۱۰ 943 خطبہ جمعہ ۶/دسمبر ۱۹۹۱ء تھا لیکن بعض لوگوں کی طبیعت میں کچھ بحث مباحثے کی عادت ہوتی ہے، کچھ نکات ان کو سمجھ نہیں آ رہے ہوتے ، ان پر تھوڑا سا وقت لگانا پڑتا ہے ان کو مختلف طریق پر سمجھانا پڑتا ہے۔تو اب میں شرح صدر کے ساتھ یہ اعلان کر سکتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے ان میں سے ہر ایک نے اپنے قصور کو سمجھ لیا، اپنی غلطیوں کو خود پہچان لیا اور آئندہ کے لئے سچے دل اور اخلاص کے ساتھ تو بہ کرتے ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کی تو بہ کو قبول فرمائے اور آئندہ ہمیشہ ان کو اس قسم کی ٹھوکروں سے بچائے۔اس کے علاوہ ان کے لواحقین کے متعلق اور دوستوں کے متعلق میں یہ خوشنودی کا اظہار بھی کرنا چاہتا ہوں کہ بہت ہی عظیم الشان مثال قائم ہوئی ہے کہ جتنے بھی دوست میری ناراضگی کا مورد ٹھہرے تھے ان میں سے کسی ایک کے عزیز نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ جماعت کا ساتھ دیا اور خلافت کے ساتھ اپنی کامل وفاداری کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ عملاً اس کے نمونے دکھائے۔ساری دنیا میں جہاں جہاں بھی ان کے عزیز پھیلے پڑے ہیں ان میں ایک بھی استثناء نہیں بلکہ ہر ایک نے کھلے لفظوں میں واشگاف الفاظ میں مجھ پر اس بات کا اظہار کیا اور اپنی جماعت میں اپنے رویہ سے اس بات کو ثابت کیا کہ ہمارے بڑوں یا عزیزوں یا اقرباء کی غلطیاں تھیں، اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔جو کارروائی کی گئی وہ سو فیصدی درست تھی اور ہم اس معاملے میں کامل طور پر خلافت سے وابستہ اور وفادار ہیں اور نظام جماعت سے وابستہ اور وفادار ہیں۔پس یہ واقعہ اپنی ذات میں مکروہ سہی لیکن خدا تعالی بعض دفعہ مکروہ باتوں میں سے حسن کی باتیں نکال دیتا ہے اور مکروہ چیزوں سے خیر کے پہلو نکال دیتا ہے۔تو یہ بھی جماعت کی تاریخ میں ایک اہم قابل ذکر واقعہ ہے کہ کسی پر یا کسی خاندان پر نہیں بلکہ بعض خاندانوں پر ابتلاء کا وقت آیا ہو اور ان تمام خاندانوں کے ہر فرد نے ثابت قدمی دکھائی ہو جن کو سزا دی گئی وہ بھی ثابت قدم ٹھہریں، ان کے تمام رشتہ دار ثابت قدم ٹھہرے اور کسی نے بھی ادنیٰ سی ٹھوکر کھا کر اپنے آپ کو داغدار نہیں کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جس کو ریکارڈ ہونا چاہئے تا کہ خطبے میں پہلے جو ان لوگوں کے متعلق کچھ تکلیف دہ باتیں جماعت کی تاریخ میں درج ہوگئی ہیں ان کا ازالہ بھی جماعت کی تاریخ میں درج ہو جائے جیسا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ کے زمانہ میں بعض صحابہ سے غلطیاں ہوئیں ان میں سے تین ایسے تھے جو عظیم کردار کے مالک