خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد ۱۰ 90 ge خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء رکھیں۔ایک دبی ہوئی دھمکی تھی تو بہر حال اتنی بڑی قیمت دے رہے ہیں اور تمام عالم اسلام میں جو نام انہوں نے پیدا کیا تھا یکسر اس کو مٹا بیٹھے ہیں۔قریب ہی کے زمانے میں ایک وقت تھا جب کہ پاکستان عملاً امریکہ کا سیٹلائیٹ بن چکا تھا اور عوام الناس اس کو قبول کر چکے تھے۔ہر سیاست دان اپنے وقار اور عظمت کے لئے امریکہ کی طرف دوڑتا تھا اور عوام میں اس کے خلاف رد عمل ہی ختم ہو چکا تھا۔اب چند دنوں کے اندر اندر نفرت کی ایسی آگ بھڑ کی ہے کہ لفظ امریکن وہاں گالی بن گیا ہے اور اسی طرح مسلمان ممالک سے برطانیہ نے اپنے تعلقات کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اور بہت ہی لمبے عرصے سے جو نیک نام پیدا کیا تھا وہ نام مٹا دیا ہے تو یہ اتنی بڑی قیمت کیوں دے رہے ہیں کیوں نہ Linkage کو تسلیم کرلیا کہ اسرائیل کو کہتے کہ تم فلاں علاقہ خالی کر دو اور عراق فلاں علاقہ خالی کر دے گا۔بات وہیں ختم ہو جائے گی۔اس لئے ہمیں ان باتوں کا مزید تفصیل سے جائزہ لینا ہوگا کہ اس موجودہ لڑائی کے پس منظر میں کیا عوامل کام کر رہے ہیں۔یہ جو الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ان کے مشترکہ مفادات ہیں جن کی خاطر یہ اس وقت عراق کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں اور کویت کی بحالی محض ایک بہانہ ہے۔اس کی بھی چھان بین کرنی ہوگی کہ کیا پہلے مشترکہ یا غیر مشتر کہ علاقائی مفادات کی خاطر ان قوموں نے اسی قسم کا رد عمل دکھایا کہ نہیں۔دوسرا جو الزام ہے کہ یہود کی خاطر ایسا کیا جارہا ہے اس کی چھان بین کرنی ہوگی کہ جب بھی یہود اس علاقے میں مسلمان ریاستوں سے متصادم ہوئے ہیں یا اسرائیل کہنا چاہئے۔یہود میں تو بعض ایسے فرقے بھی ہیں جو اسرائیل کے خلاف ہیں بعض بڑے بڑے شریف النفس ایسے لوگ بھی ہیں جو اسرائیلی جارحیت کی کھل کر تنقید کرتے ہیں اور ان کی کارروائیوں کی کسی رنگ میں بھی تائید نہیں کرتے تو یہود نہیں کہنا چاہئے ، اسرائیل کہنا چاہئے کہ اسرائیل کا جب بھی تصادم ہوا ہے ان قوموں نے اس میں کیا کردار ادا کیا ہے اور کیوں اسرائیل کی ہر موقعہ پر تائید کی ہے اگر تائید کی ہے تو مذہبی تعصب اس میں کارفرما ہے یا محض مفادات ہیں۔اسرائیل کے قیام کی غرض وغایت کیا ہے کیوں اس کو ہر بڑی سے بڑی قیمت پر قائم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ سارے سوالات ہیں جن کا جواب انشاء اللہ آئندہ خطبے میں پیش کروں گا اور جہاں سے اس تاریخ کی بحث کو چھوڑ رہا ہوں ، وہیں سے اٹھا کر آج تک کے حالات رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات آپ کے سامنے پیش کروں گا تا کہ