خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد ۱۰ آپ کی یادداشت تازہ ہو جائے۔91 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء اس تجزیے کے بعد پھر اگلے خطبے میں اگر وقت ملایا اس کے بعد کے خطبے میں میں اسلامی نقطہ نگاہ سے ان مسائل کا حل پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔کیونکہ آج وقت زیادہ ہو چکا ہے۔اس لئے اس بحث کو، اس خطاب کو سر دست یہاں ختم کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم بحیثیت غلامان محمد مصطفی امیہ کو عالمی مسائل کا ایک ایسا حل پیش کرنے کی توفیق پائیں جس کی اندرونی طاقت ایسی ہو کہ اگر وہ اس کو قبول کریں تو بنی نوع انسان کو امن کی ضمانت ملے اور اگر قبول نہ کریں تو جو چاہیں کریں امن مہیا نہ کرسکیں۔صحیح حل کے اندر ایک یہ طاقت ہوا کرتی ہے جو سچائی کی طاقت ہے۔اگر کوئی انسان کسی صحیح مشورے کو قبول کرے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اگر رد کر دے تو اس کا نقصان ہوتا ہے۔پس میں چونکہ اسلام کی نمائندگی میں بات کروں گا اس لئے یقین رکھتا ہوں کہ جوصل جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کیا جائے گا وہ ایسا حل ہے کہ جس کو تخفیف کی نظر سے دیکھا ہی نہیں جاسکتا۔اگر قبول کرو گے تو اپنے فائدے کے لئے قبول کرو گے اور بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے بھی اور اگر رد کرو گے تو جو چاہے کوششیں کرو، دنیا سے تم فساد کو رفع دفع نہیں کر سکتے اور ایک کوشش کے بعد دوسری کوشش ناکام ہوتی چلی جائے گی اور ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ سراٹھاتی چلی جائے گی اور ایک بدامنی کے بعد دوسری بدامنی انسانی معاشرے کو خون آلود کرتی رہے گی اور انسان کے دل کے امن اور سکون کو لوٹتی رہے گی۔یہ میں یقین رکھتا ہوں کہ چونکہ میں خدا کے فضل کے ساتھ اسلامی حل پیش کروں گا اس لئے یہی صورت ہوگی۔ان کو یا قبول کرنا ہوگا اور فائدہ اٹھانا ہوگا یار دکرنا ہوگا اور نقصان کی راہ اختیار کرنی ہوگی۔جماعت احمدیہ سے میری درخواست ہے کہ یہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ میری ذہنی اور قلبی صلاحیتوں کو تقویٰ پر قائم رکھے تاکہ میں تقویٰ کے نور سے دیکھ کر ان مسائل کا کوئی ایسا حل تجویز کرسکوں جن سے بنی نوع انسان کو امن کی ضمانت دی جا سکے۔