خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 935 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 935

خطبات طاہر جلد ۱۰ 935 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء بھی کہ نہیں، کوئی رابطے ہوئے۔کس نے کیا جواب دیا اور آپ کے پاس اس کا کیا جواب تھا؟ جب آپ اس رنگ میں ان سے گفتگو کرتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے بہت سے جواب غلط تھے۔بہت سے جواب ایسے تھے جو کسی کو قریب کرنے کی بجائے دور پھینکنے والے تھے اور یہ باتیں مجھ تک تو خود پہنچ جاتی ہیں اس لئے مجھے جا کر پتہ کرنے کی ضرورت نہیں۔پاکستان سے ،افریقہ کے ممالک سے ، نجی سے ، جاپان سے، ہر تبلیغ کرنے والے کو شوق ہوتا ہے کہ مجھے بھی بتائے کہ کس طرح تبلیغ کی اور بعض تو اتنی لمبی لمبی رپورٹیں آتی ہیں کہ مجھے ان کو پڑھنے میں کئی دن لگتے ہیں مگر جو تفصیل سے بات کرنے کے عادی ہیں انہوں نے تو بہر حال تفصیل سے ضرور بتانا ہے کہ فلاں آدمی سے یہ بات ہوئی اس نے مجھے یہ کہا، میں نے اس کو یہ کہا ، اس نے مجھے یہ کہا میں نے اس کو یہ کہا پھر یہ بات ہوگئی پھر فلاں شخص آ گیا ، پھر اس سے گفتگو شروع ہوگئی، پھر ایک اور آدمی آگیا اس نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔ساری تفصیل اس رپورٹ میں لکھی ہوتی ہے اور پھر اس کو پڑھ کر بعض جگہ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ بڑی حکمت سے عمدہ جواب دیا ہے بعض جگہ کوفت ہوتی ہے کہ ہرانے کی کوشش ہو رہی ہے ، دل جیتنے کی کوشش نہیں ہو رہی سختی سے کاٹنے والا جواب دیا جارہا ہے اور اپنی طرف بڑے فخر سے مجھے بتایا جا رہا ہے کہ کس طرح ہم نے اس کو لا جواب کیا حالانکہ لاجواب کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ہمارا مقصد یہ ہے کہ دل جیتیں خواہ خود لا جواب ہوکر دل جیتیں اور یہ بھی ایک حکمت کا مضمون ہے۔بعض دفعہ لا جوابی سے بھی دل جیتے جاتے ہیں۔آپ ایک بات کو برداشت کر جائیں اور اس کا جواب نہ دیں اور ایک درد آمیز خاموشی اختیار کریں تو اس کے نتیجہ میں بھی دل جیتے جاتے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے افریقہ کے ایک ملک سے اسی مضمون پر ایک رپورٹ ملی کہ ہم کسی جگہ گئے۔وہاں عیسائیوں کا جو مناد تھا اس نے بہت بے ہودہ زبان استعمال کی اور سختی کی اور نا پسندیدہ رویہ اختیار کیا۔اس پر ہم نے یہی مناسب سمجھا کر صبر سے کام لیں اور مقابل پرختی نہ کریں۔چنانچہ ہم صبر کے ساتھ اس دکھ کو برداشت کرتے ہوئے خاموش رہے۔دوسرے دن وہ دلی معذرت کے ساتھ انتہائی شرمندہ حالت میں پہنچا۔بار بار معافی مانگی اور عرض کیا آپ دوبارہ ہم سے بات کریں۔دوبارہ تبلیغ کریں اور ہم سننے کے لئے حاضر ہیں۔بڑی شرافت کے ساتھ گفت و شنید ہوگی۔اس مضمون کا خط صرف ایک افریقہ سے نہیں آتا۔مختلف جگہوں سے ملتے ہیں۔