خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 936
خطبات طاہر جلد ۱۰ 936 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء بنگلہ دیش سے بھی اس مضمون کا ایک خط ملا اور بھی کئی ایسے ہیں جن کا مجھے اب نام بھی یاد نہیں مگر روز مرہ کا تجربہ ہے کہ جو احمدی صبر کے ساتھ اللہی خاموشی اختیار کرتا ہے اس کا جواب نہ دینا اس کے لئے زیادہ دل جیتنے کا موجب بن جاتا ہے اور جو ایسا جواب دینا جانتا ہے کہ جس کے نتیجہ میں دل جیتے ہی جاتے ہیں وہ تو بہر حال خدا کے فضل سے ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہے اور اس کے نتیجہ میں ہر تبلیغ ہر جدو جہد، ہر کوشش کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی جھولی میٹھے پھلوں سے بھرتی رہتی ہے۔تو دعوت الی اللہ کرنے کا گر سکھانا اور جائزہ لینا کہ کوئی اس معاملہ میں کیا غلطی کر رہا ہے اس کی کس رنگ میں درستی کی ضرورت ہے یہ بھی ایک بہت ہی اہم کام ہے۔بعض اور باتیں جو میں نے محسوس کی ہیں ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ بعض لوگ خاص لوگوں سے جب ایک دفعہ ٹکر لے بیٹھتے ہیں اور تبلیغ کا سلسلہ شروع کر بیٹھتے ہیں تو یہ سوچتے ہی نہیں کہ ان کے اندر قبولیت کا کوئی مادہ کم ہے اور بعض ایسی عادتیں ہیں جن کے نتیجہ میں عام طور پر ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں ملا کرتی یعنی ضد ہے، تعصب ہے، ہٹ دھرمی ہے اور قرآن کریم نے ہمیں آغاز ہی میں یہ مطلع فرما دیا کہ یہ کتاب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرہ:۳) ہے یہاں متقین سے مراد ابتدائی تعریف کے طور پر یہ ہے کہ وہ لوگ جو سچی بات کو دیکھتے ہیں تو سچی بات کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یعنی ضد اور تعصب نہیں ہے تو تقویٰ کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان میں یہ صلاحیت موجود ہو کہ دن کو دن کہہ سکے اور رات کو رات کہہ سکے اس کے لئے کوئی بڑی تعلیم کی ضرورت نہیں ہے۔یہ انسانی فطرت کی ایک طبعی کیفیت کا نام ہے تو ایسے لوگ جن کو یہ فطری سچائی نصیب نہ ہو ان سے آپ جتنا چاہیں سر ٹکرا ئیں ان کو ہدایت نہیں ملے گی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس بنیادی بیماری کو دور فرما دے۔پس بجائے اس کے کہ آپ اپنا وقت اس امید پر ان بیماروں پر ضائع کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے شاید ان کا دل بدل دے۔جو بیمار نہیں ہیں ان کی طرف کیوں نہیں توجہ کرتے۔جب آپ کے پاس کافی وقت نہیں ہے کام زیادہ ہے تو پہلے ان چیزوں پر ہاتھ ڈالیں جن کو قبضہ میں لینا آسان تر ہے پہلے مشکل چیزوں پر ہاتھ ڈالیں گے تو نتیجہ بہت کم اور بہت دیر سے نکلے گا۔اس لئے تبلیغ کے وقت اس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ایک آدمی کو کس وجہ سے Reject یعنی نظر انداز کر دینا چاہئے اور کس وجہ سے نہیں کرنا چاہئے۔یہ بھی اپنی ذات میں ایک گہرے غور کا مضمون ہے۔میں وضاحت سے آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس بات پر