خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 934 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 934

خطبات طاہر جلد ۱۰ 934 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء تابع زمین پر بسنے والے نفوس بھی اس سے متاثر ہو کر اسی رنگ کے راگ الاپنے لگ جاتے ہیں تو مقام محمود ہمارے ہر کام میں چھوٹی چھوٹی منازل کی شکل میں آتا رہتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے کے جس مقام محمود کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے وہ تو ہم میں سے اکثریت کے تصور سے بھی بالا ہے۔اس لئے میں اس کی مثال دے کر آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ وہ مقام محمود بھی دراصل ایک ہی چھلانگ میں حاصل ہونے والا مقام محمود نہیں تھا۔آنحضرت ﷺ نے ساری زندگی سفر فرمایا ہے اور ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف سفر فرماتے چلے گئے ہیں۔ہمیں بھی اسی بات کی پیروی کرنی ہوگی اور دین کی ہر خدمت اگر اچھے رنگ میں کی جائے۔اللہ پر توکل کرتے ہوئے کی جائے۔اس سے دعا ئیں مانگتے ہوئے کی جائے تو ہمارے لئے اس خدمت کا ہر مرحلہ ایک مقام محمود بن سکتا ہے۔پس اس موقعہ پر بھی یہ دعا ساتھ رہنی چاہئے اور یہ دعا کہ ہر مقام پر مجھے مددگار چاہتے ہوں گے۔بیٹھ رہنے کے لئے تو مددگار کی ضرورت نہیں ہوا کرتی آگے بڑھنے کے لئے مددگار کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔خاص طور پر مشکل سفر میں مددگار کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔پس اپنے مددگار پیدا کر دیں اور یہ دعا مانگیں کہ اے اللہ ! ہر ایسے مرحلہ پر جسے تو مقام محمود بنائے گا میرے لئے ایسے مددگار پیدا فرما کہ یہ سفر ہمارے لئے آسان تر ہوتا چلا جائے اور ہمیشہ ہم تھک ہار کر بیٹھ رہنے کی بجائے آگے ہی قدم بڑھاتے رہیں۔ان دعاؤں کے ساتھ ، اس لگن کے ساتھ اگر آپ جماعت کی تربیت کریں گے تو دعوت الی اللہ کے رنگ بدل جائیں گے اس میں نئی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔مختلف Ethnic گروپس کی میں بات کر رہا تھا، پھر آگے یہ جائزہ لینا ہوگا کہ کس جگہ کس قسم کے لوگ زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور تجارب پر نظر رکھنی ہوگی محض تجربے کا آغاز کر دینا کافی نہیں ہے کئی جگہ آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ بعض دفعہ بعض طبقات میں نسبتا کم دین کی طرف توجہ ہوتی ہے بعض دوسرے طبقات میں زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ کس طریق پر رابطے پیدا کئے جائیں تو زیادہ توجہ پیدا ہوتی ہے۔کس طریق پر رابطے پیدا کئے جائیں تو کم توجہ پیدا ہوتی ہے غرضیکہ جو کام جاری کرنے ہیں ان کو متعلقہ افراد تک پہنچا کر سمجھا کر اپنی طرف سے آپ کام مکمل کر بھی دیتے ہیں تب بھی بات ختم نہیں ہوتی پھر ان کے تجارت پر نظر رکھنی پڑے گی اور اگلے سفر کے وقت جب آپ وہاں جاتے ہیں تو ان سے پوچھنا ہوگا کہ جو ترکیبیں آپ کو پہلی دفعہ بتائی گئیں ان پر کوئی عمل ہوا