خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 930 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 930

خطبات طاہر جلد ۱۰ 930 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء پس اگر سیکرٹری تبلیغ با قاعدہ اپنے کام کے سلسلہ میں تیاری کرنے کی کوشش کرے تو اس کے لئے مواد بہت ہے۔تیاری کے لئے ذرائع موجود ہیں۔لٹریچر کا مطالعہ، دنیا کے حالات کا براہ راست مطالعه، مختلف Ethnic گروپس جو اس ملک میں رہتے ہیں یعنی اقلیتی طبقات ان کے متعلق مقامی طور پر ان کی انجمنوں سے رابطے کر کے معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ان کے اقتصادی مسائل کے متعلق معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔ان کے اخلاقی مسائل کے متعلق ان کے ملکوں کے اقتصادی، سیاسی وغیرہ مسائل پر معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔وہ معلومات جو حاصل کریں وہ مجھ تک پہنچا ئیں۔جو مجھے ملتی ہیں میں ان تک پہنچا تا ہوں اس طرح علم کا ایک ذخیرہ پیدا ہوتا ہے جو بڑھتا چلا جاتا ہے اور ان سب عمومی باتوں کا تبلیغ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے کیونکہ جس شخص کو تبلیغ کی جائے جب تک اس کی دلچسپی کے معاملات میں آپ کو دلچسپی نہ ہو۔جب تک اس کو یہ یقین نہ ہو کہ میری دلچسپی کے دائرے تبلیغ کرنے والے کی دلچسپی کے دائرے سے بالکل الگ نہیں ہیں کچھ ایسی مشترکہ زمین بھی ہے جہاں ہم دونوں ایک ہی طرح کی دلچسپی رکھتے ہیں اس وقت تک اس کے لئے اپنے پیغام میں دلچسپی پیدا کرنے کے امکانات بہت کم ہوں گے۔اس کی مزید وضاحت یوں کرتا ہوں کہ آپ کے لئے اس بات کا امکان کم ہو گا کہ آپ اس کو اپنے پیغام میں دلچسپی لینے پر مجبور کرسکیں۔آپ کو پہلے خود دلچسپی لینی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ اور باتیں آپ کو معلوم ہوں گی اور ان باتوں کے نتیجہ میں علم کی روشنی ملے گی۔جس طرح کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا روشنی کے بغیر سفر نہیں ہوسکتا۔اسی لئے اجنبی سے آپ مؤثر گفتگو نہیں کر سکتے پہلے ٹول کر تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کر کے اندازہ لگانا پڑتا ہے کہ یہ کس مزاج کا آدمی ہے۔اس لئے جب نئے دوست میرے پاس آتے ہیں تو ہمیشہ شروع میں ادھر ادھر کی چاروں طرف کی باتیں کر رہا ہوتا ہوں جو احمدی لے کر آتے ہیں وہ بھی حیران ہوتے ہوں گے کہ یہ سیدھی بات کرتا نہیں تبلیغ کی گفتگو نہیں کر رہا لیکن میں اس کے بغیر گفتگو کر ہی نہیں سکتا جب تک مجھے یہ نہ پتہ لگے کہ کسی شخص کا مزاج ہے کیا؟ کن باتوں میں دلچسپی رکھتا ہے اس کے نظریات کیا ہیں ، اس کے تجارب کیا ہیں ، کیا تلخیاں دل میں ہیں، کیا خوشی کی باتیں ہیں؟ اس وقت تک صحیح معنوں میں تبلیغ ہو ہی نہیں سکتی۔پس وہی بات حکمت کی بات ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمائی کہ اُدعُ اِلى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ ( انحل : ۱۲۶) حکمت سے اپنے رب کی