خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 924
خطبات طاہر جلد ۱۰ 924 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء لیکن اس کا آغاز ہونا چاہئے اور اگر آغاز درست ہو جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ یہ کام سنبھالا جائے گا۔امراء کو چاہئے کہ اپنے سیکرٹری تبلیغ سے اس معاملہ میں با قاعدہ Sitting کریں یعنی مجلس عاملہ کے علاوہ بھی ان کو بلا ئیں، ان کے ساتھ بیٹھیں۔ان سے پوچھیں کہ آپ نے اس سلسلہ میں اب تک کیا کیا ہے؟ اور پھر دیکھیں کہ کیا جن لوگوں نے دعوت الی اللہ کے وعدے کئے تھے ان تک یہ سیکرٹری تبلیغ یا ان کے نائبین پہنچے بھی ہیں کہ نہیں اور مل کر تفصیل سے صورت حال کا جائزہ لیا ہے کہ نہیں۔مثلاً انگلستان کی مثال لیجئے۔اگر برمنگھم سے ۱۰۰ دعوت الی اللہ کرنے والے اپنا نام اس فہرست میں درج کرا دیتے ہیں اور ہر سال ان اعداد و شمار کا اعادہ ہوتا رہتا ہے اور عملاً کوئی جا کر دیکھتا نہیں کہ انہوں نے پچھلے سال کیا کیا تھا تو یہ اپنے نفس کو دھوکہ دینے والی بات ہے، یونہی وہموں میں بسنے والی بات ہے کہ ہم کوئی کام کر رہے ہیں۔لازمی طور پر اس کا نتیجہ یہ نکلنا چاہئے تھا کہ اول تو امیر ، مرکزی سیکرٹری تبلیغ کا اس معاملہ میں جائزہ لیتا اور جب اس کو ر پورٹ پہنچتی تو وہ خوشی کا اظہار کرتے ہی یہ پوچھتا کہ تم نے اس کے بعد کیا کیا؟ پتہ کیا ہے وہ کون لوگ ہیں ؟ معلوم کیا ہے کن کن لوگوں کو تبلیغ کر رہے ہیں؟ ان کا تبلیغ کا طریق کیا ہے؟ تبلیغ کے لئے جو مواد ضروری ہے وہ ان کو مہیا بھی ہے کہ نہیں ؟ غلط طریق پر اگر کام کر رہے ہیں تو کسی نے کبھی معلوم کر کے ان کو سمجھانے کی بھی کوشش کی ہے کہ نہیں ؟ اگر یہ نہیں تو پھر یہ کام تسلی بخش نہیں محض ایک فہرست ہے۔پھر ان کو سمجھائے اور بعض دفعہ اپنے دوروں کے دوران ان مقامات پر جا کر مثال کے طور پر بعض رابطے پیدا کر کے دکھائے اور بتائے کہ اس طرح کام ہوتا ہے۔مثلاً ایک سیکرٹری تبلیغ اگر پوری طرح کام کرنے والا ہو اور وہاں جماعت کی تعداد خاطر خواہ ہو تو اس کو تو اتنا وقت میسر ہی نہیں آسکتا کہ اپنے روز مرہ کے کام اور تبلیغ کے علاوہ اسے کوئی ہوش رہے۔اتنے تفصیلی دورے کرنے پڑیں گے اور مختلف جگہوں پر ٹھہر ٹھہر کر اتنے وسیع رابطے کرنے پڑیں گے کہ بڑی جماعتوں میں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ۲۴ گھنٹے کے دن کے اندر کسی حد تک تو کام سموئے جاسکتے ہیں، حد سے زیادہ کام تو نہیں سموئے جاسکتے اس کا تقاضا یہ ہے اگر اسے ٹیمیں بنانی پڑیں گی۔اس مجبوری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنے ساتھ اپنے نائبین تیار کرنے پڑیں گے اور مثلاً وہ یہ کام کر سکتا ہے کہ ایک مرکزی ٹیم بنائے مختلف ایسے نوجوان چنے جن کے پاس پہلے کام نہیں ہیں۔بے شک ایسے چنے جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، جو دین کی خدمت نہ کرنے کے