خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 925 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 925

خطبات طاہر جلد ۱۰ 925 خطبہ جمعہ ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء نتیجہ میں بہک رہے ہیں اور بھٹک رہے ہیں ان سے رابطہ قائم کرے اور اس رابطہ کے قیام کے لئے ضروری نہیں کہ پہلے ان کو بتائے کہ یہ کام تم سے لینا ہے بلکہ نظر ڈال کر پیار اور محبت سے ان کو کبھی چائے پر بلا کر کبھی کسی اور رنگ میں ان سے ذاتی تعلق قائم کرے اور پھر کہے کہ میں دورے پر جارہا ہوں کیا آپ بھی میرے ساتھ چل سکتے ہیں آئیے ہم تجربہ کرتے ہیں اور مل کر دیکھتے ہیں کہ ہم دین کی کس حد تک خدمت کر سکتے ہیں۔یعنی الفاظ تو اس طرح ضروری نہیں مگر مفہوم یہی ہے جو گفتگو کا ہونا چاہئے اور اس کے علاوہ سلسلہ کی خدمت کرنے والے اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے دوسرے دوستوں کو بھی ساتھ شامل کرے اور ضروری نہیں کہ ہر جگہ یہ ساری کی ساری ٹیم پہنچے۔بعض جگہوں میں ایک دو کو لیا جاسکتا ہے، بعض جگہوں پر جانے کے لئے دوسرے دو تین کو اختیار کیا جاسکتا ہے تو اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ ایسے نائبین لے کر جائے یا ایسے احباب جماعت لے کر جائے جن کو آئندہ نائبین بنانا مقصود ہو اور کام کی تربیت دینا مقصود ہو۔وہاں پہنچ کر پریذیڈنٹ سے رابطہ کرتا ہے، بتاتا ہے کہ میں اس غرض سے آیا ہوں۔یا ہم اس غرض سے آئے ہیں۔پھر ایک ایک شخص سے ملنے کا پروگرام بنایا جائے۔صرف میٹنگ ہی نہ بلائی جائے کیونکہ میٹنگز میں بعض باتیں ہوتی ہیں اور بیک وقت بہت سارے لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں مگر انفرادی سطح پر جب تک تتبع نہ کیا جائے کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔تو ان تک پہنچنے کے لئے پروگرام بنا کر جایا جائے۔ہر شخص کے اپنے اوقات ہیں۔کافی سر دردی کرنی پڑے گی لیکن جو محبت کے ساتھ کام کیا جائے وہ فی الحقیقت سر دردی نہیں بلکہ دل کا درد بن جاتا ہے اور سر دردی، مصیبت ہوتی ہے اور دل کا درد بہت پیاری چیز ہے۔تو بظاہر سر دردی ہے لیکن اگر لگن ہو، توجہ ہو، تعلق ہو تو اس کام میں بہت لطف آئے گا۔رابطے پیدا کرنے ہوں گے کوئی کہے گا کہ جی ! میرے پاس تو وقت نہیں ہے۔اچھا جی ! مجھے بتائیں کہ میں کب آپ کے پاس آ سکتا ہوں۔ہم نے ضروری باتیں کرنی ہیں۔کسی ایک سے جس سے بھی وقت طے ہو اس تک پہنچ کر پوچھا جا سکتا ہے کہ جی بتائیے ! آپ نے دعوت الی اللہ میں نام لکھایا تھا، کیا کیا ہے؟ کن کن لوگوں تک آپ پہنچے ہیں یا پہنچ سکتے ہیں۔اگر اس سے پہلے وہ سارے جائزے مکمل ہوں جن کے متعلق پہلے بار ہا نصیحت کی جاچکی ہے تو یہ کام بہت ہی آسان ہو جاتا ہے۔مثلاً جائزوں کے سلسلہ میں بارہا یہ ہدایت کی گئی ہے کہ