خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 920 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 920

خطبات طاہر جلد ۱۰ 920 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء سہارا ہیں۔یہ ساری چیزیں از خود ہو رہی ہیں تو اتنا عظیم الشان کارخانہ یہ دھوکا دینے لگے کہ میں از خود ہوں، یہ صنعت کاری کا کمال ہے۔یہ انتظام کا معراج ہے اور اس پہلو سے میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک زندہ جماعت ہیں اس کے غلام ہیں جس کو روحانی اور علمی معراج عطا ہوا اس لئے ہم بھی اپنے کاموں کو درجہ معراج تک پہنچانے کے لئے کوشش کرتے رہیں اور خدا تعالیٰ نے جس طرح ہمیں نظام کا ئنات کو چلانا سکھایا ہے اسی طرح ہم اپنے نظام جماعت کو ترقی دیتے چلے جائیں اور اس ترقی کی کوئی آخری منزل نہیں ہے، یہ ہمیشہ جاری وساری رہنے والی ہے۔جب ایک کام سے آپ فارغ ہوں گے تو دوسرا کام آپ کے سامنے آجائے گا فراغت کا یہ معنی نہیں کہ بے کار بیٹھو۔فراغت کا مطلب یہ ہے کہ ایک کام کو جاری کر دو۔وہ خود کار آلے کی طرح چل پڑے۔پھر اس کو لطف کے ساتھ دیکھو وہی تمہاری جزاء ہے پھر اپنے وقت کو دوسرے کام کے لئے استعمال کرو اور ایک اور کام اس طرح جاری کر دو۔غرضیکہ اس طریق پر اگر ہم اپنے کاموں کو آگے بڑھاتے رہیں تو جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز بروز ترقی کی منازل طے کرتی رہے گی۔یہ باتیں تو دو تین ہی کہی ہیں لیکن ان کو تفصیل سے سمجھانا ضروری تھا اس لئے پورے خطبہ کا وقت انہی ایک دو باتوں میں صرف ہو گیا۔آئندہ انشاء اللہ اسی مضمون سے متعلق مزید کچھ باتیں بیان کروں گا۔آخر پر دعا کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں کیونکہ میرا ایمان بھی ہے اور زندگی بھر کا تجربہ بھی یہی ہے کہ کسی کام میں دعا کے بغیر برکت نہیں پڑتی۔دعا مانگیں اور دل ڈال کر دعا مانگیں۔اپنی عاجزی اور بے کسی کو محسوس کرتے ہوئے دعا مانگیں اور ہمیشہ دعا مانگتے رہیں۔دعا کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں برکت دے اور ہمارے خیالوں میں اور سوچوں میں برکت دے اور ہمارے خیالوں اور سوچوں کو عمل کی دنیا میں ڈھالنے کی توفیق ہمیں عطا فرمائے۔پھر ان کاموں کو برکت دے اور اپنے فضل سے خود ان کو پھل لگا تا چلا جائے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ہم نے بہت سفر طے کرنا ہے۔وقت بہت تھوڑا ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کی تھی کہ ہمیں کوشش یہ کرنی چاہئے کہ آج جو جماعت ہے یہ بالعموم اپنی زندگی میں ایک کروڑ نئے احمدی پیدا کر دے۔اگر ہم اس مقصد کو حاصل کرلیں تو میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ کروڑ پھر ایک جگہ ٹھہرنے والے نہیں ہوں گے وہ دسیوں بیسیوں کروڑ بنیں گے اور بہت تیزی کے ساتھ دنیا میں روحانیت کا آخری انقلاب برپا ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین