خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 919
خطبات طاہر جلد ۱۰ 919 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء ترقی یافتہ کیمیاوی شکلیں بنا لیتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن ایک آم بنانے کے لئے کتنے کارخانوں کی ضرورت پڑے گی؟ کتنا شور برپا ہوگا؟ کتنی ہوا میں پلوشن Pollution ہوگی ؟ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس سے فائدہ کتنا اور نقصان کتنا زیادہ ہو گا۔ہم جتنے کام بھی کر رہے ہیں ان سے شور ہی اتنا پیدا ہورہا ہے کہ اس سے ہی لوگوں کے اعصاب تباہ ہور ہے ہیں۔اور فضا میں اتنی پلوشن ہورہی ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہم اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ترقی کی اعلیٰ حالتوں کی بجائے نسبتاً سادہ صورتوں کی طرف لوٹ جائیں یہ بہتر ہے یا اسی طرح آگے بڑھتے رہیں کیونکہ ہر کام جو انسان کر رہا ہے ، ہر چیز جو انسانی صنعت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اپنے ساتھ ایسا فضلہ چھوڑ رہی ہے جس کا کوئی فائدہ مند استعمال نہیں ہے بلکہ وہ زہر پیدا کر رہا ہے۔کائنات میں اللہ تعالیٰ نے جو کارخانے بنائے ہیں ان کا فضلہ اس کا ذرہ ذرہ دوبارہ صحیح مصرف میں استعمال ہو رہا ہے اور یہ صنعت کا کمال ہے۔اب آم بنیں یا پھول بنیں یا اور پھل بہنیں یا پتے بہنیں یا شاخیں بنیں ، جو کچھ بھی بنتا ہے جب بھی کوئی چیز بنتی ہے اس میں کچھ زائد چیزیں بے کار چیزیں نکل کر فضا میں ادھر ادھر پھیل رہی ہوتی ہیں یا زمین میں جذب ہو رہی ہوتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے زندگی کے عمل کے ذریعہ عام کیمیاء کو نامیاتی کیمیاء میں تبدیل کیا ہے اس کے لئے جو کارخانہ بنا ہوا ہے وہ دیکھنے میں ہر جگہ ایک جیسا ہی ہے۔گھاس پھوس ہو یا جھاڑیاں ہوں یا درخت ہوں ، بنیادی طور پر سب ایک ہی قسم کا کارخانہ ہے۔اس میں آپ کوئی فرق محسوس نہیں کر سکتے لیکن ہر قسم کی مختلف چیزیں وہ بنارہے ہیں اور ہر ایک کا Waste Product زندگی کی بقاء کے لئے ضروری ہے اور ایسا حسین تو ازن ہے کہ ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جس کو آپ کہہ سکتے ہوں کہ یہ دراصل ہمیں ترقی کرنے کی سزا مل رہی ہے۔مثلاً آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ ان دو چیزوں کا عمل زندگی کی کیمیاء میں یا زندگی کی کیمیاگری میں سب سے نمایاں ہے اور ان دونوں کا توازن انتنا حسین طور پر قائم رہتا ہے کہ اس سے کسی قسم کے Environment کوفضاءکو یا زمین کو یا پانیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا اور ہر چیز جو کچھ پھینک رہی ہے وہ کسی اور دوسری چیز کی بقاء کے لئے کام آرہی ہے تو یہ ہے خدا تعالیٰ کا کارخانہ جو خاموشی سے چلتا ہے اتنی خاموشی سے چلتا ہے کہ سنائی نہیں دیتا اور جو کم نظر ہیں ان کو دکھائی بھی نہیں دیتا۔جن کی بقاء کا سہارا بنا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں ہم خود ہی اپنی بقاء کا