خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 918
خطبات طاہر جلد ۱۰ 918 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء جہاں کام بڑھ نہیں رہا وہاں اس کے اندر کچھ کمزوری ہے وہ انسان جو خود اپنی ذات میں سکڑ رہا ہو۔اس بات کی علامت ہے کہ اس کے کام نہیں بڑھ رہے جب کام بڑھیں گے تو انسان کی شخصیت بھی وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے پھیلتی چلی جاتی ہے ، وہ اپنی حدود سے باہر آ جاتی ہے اور اس کی نئی حدود قائم ہوتی ہیں۔پس جماعتوں کی شخصیتیں بھی اسی طرح بڑھتی ہیں۔جو جماعتیں مستعد ہیں ان کے اوپر آپ بوجھ ڈالتے چلے جائیں وہ اور زیادہ مستعد ہوتی چلی جائیں گی اور کام بنتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ بڑے بڑے کاموں کے کارخانے قائم ہو جاتے ہیں اور کوئی پتہ نہیں لگتا، کوئی شور نہیں پڑتا۔کوئی ہنگامہ نہیں ہے۔کوئی افراتفری کے مطالبے نہیں ہیں کہ یہ کام آپڑا یہ مہیا کرو۔فلاں کام ہے یہ کام کرو مثلاً کراچی کی جماعت ہے۔ایک لمبے عرصے سے خدا کے فضل سے ارتقاء پذیر ہے اور اس جماعت پر خدا تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ اگر کبھی چھوٹے چھوٹے فتنوں نے سراٹھانے کی کوشش بھی کی تو اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عمومی طور پر ایسی بیدار مغزی عطا کی ہے کہ وہ فوراً ان پر غالب آجاتی رہی اور اس وجہ سے اب وہاں ایک پورا بھاری نظام جاری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خوبصورت کام کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ وہ بے آواز ہو، اس میں شور نہ ہو، جو خود بخود جاری ہو جائے وہی اصل کام ہے۔اب کا ئنات میں دیکھیں کہ ان گنت نظام جاری ہیں ان گنت قوانین ہیں لیکن دیکھیں کتنی خاموشی سے کام چل رہے ہیں۔اتنی خاموشی ہے کہ دیکھنے والے کو نیند آ جاتی ہے وہ غافل ہو جاتا ہے وہ سمجھتا ہے ہو ہی کچھ نہیں رہا۔درخت کے ایک پھل بنے تک کے حالات پر غور کریں۔کتنے بے شمار قانون ہیں جواس میں حرکت میں ہیں۔کام کر رہے ہیں ایک آم انسان نے اگر بنانا ہوتو سوچیں اس کے لئے اس کو کتنے بڑے کارخانے کی ضرورت پڑے گی یعنی ان چیزوں سے بنانا ہو جن چیزوں سے خدا تعالیٰ نے آم بنا کر دکھا دیا ہے اور روز مرہ ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن چونکہ نظام بہت اعلیٰ درجے کا ہے اور بہت عمدگی سے کارفرما ہے اس لئے اس کی آواز ہی نہیں آتی۔مزہ چکھتے ہیں پھر بھی آواز نہیں آتی۔پتہ ہی نہیں لگتا کہ یہ کیسے ہوا اور چیزیں کیا مہیا کی گئی ہیں تھوڑی سی مٹی ہے پانی ہے روشنی ہے اور ہوا ہے۔یہ امریکہ کے یا روس کے اعلی ترقی یافتہ سائنسدانوں کو مہیا کر دیں کہ یہ لومٹی ، یہ ہوا، یہ پانی اور یہ روشنی اور اس سے تم آم بھی بناؤ، امرود بھی بناؤ، اور ہر قسم کی غذا ئیں پیدا کرو، گندم بھی اسی سے بنے ، کچھ نہ کچھ سائنس دان آج کل بنا سکتے ہیں، ادنی ادنی معمولی معمولی کیمیاؤں سے وہ بڑی بڑی