خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 917 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 917

خطبات طاہر جلد ۱۰ 917 خطبه جمعه ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء اس سے رفتہ رفتہ اس کو کام کی عادت پڑ جاتی ہے۔پس جب آپ اس شعبہ کے لئے کوئی آدمی تلاش کریں گے تو نظر ڈالیں مختلف لوگ مختلف کاموں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ان کے مختلف طبعی تقاضے ہیں ان کو لو ظ ر کھتے ہوئے صحیح آدمی کی تلاش کرنا، صحیح آدم کو صحیح جگہ کام دلانا یہ سیادت کی ضروری باتیں ہیں اور ہراحمدی امیر سے میں توقع رکھتا ہوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اعلیٰ سیادت کی صلاحیتیں موجود ہیں۔پس اس رنگ میں اپنی صلاحیتوں کو ٹول کر باہر نکالیں اور ذاتی دلچسپی لے کر یہ معلوم کیا کریں کہ فلاں اچھے کام کے لئے فلاں شخص موزوں ہے کہ نہیں؟ پس مصروف آدمی کو تلاش کریں یعنی جوطبعا اور فطرتا کاموں کا عادی ہو اور ایسے شخص کو جب آپ دین کے کام دیتے ہیں تو بالعموم یہ ہوتا ہے کہ اس کی دوسری مصروفیتیں جھڑ نے لگ جاتی ہیں اور ان کی جگہ دین کے کام قبضہ کرنے لگ جاتے ہیں۔وہ شخص جو پہلے سمجھتا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے وہ سمجھتا ہے کہ دوسری چیزوں کے لئے وقت نہیں ہے دین کے لئے وقت ہے تو اس طرح ساری قوم ترقی کرتی ہے۔بہر حال ایسے آدمی کے سپر د کام کریں جو اپنے آپ کو اس میں کھو دے۔اس کو یہ لگن لگ جائے کہ یہ میرا کام ہے۔واسطے رکھے پتہ کرے کہ یہ جو ہمارے مخلصین تبلیغ کر رہے ہیں ان کے کیا کیا طریق ہیں۔پھر جو طریق اس کو پسند آئے اس سے دوسروں کو مطلع کرے۔بعض دفعہ جلسے ہوتے ہیں جن میں مبلغین کے تجارب کے متعلق تقاریر ہوتی ہیں۔جو لوگ سنتے ہیں ان کے دل پر اچھا اثر پڑتا ہے لیکن ایسے رسمی جلسے تو سال میں ایک دو مرتبہ ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ساری جماعت ہفتہ وار ایسے جلسوں میں شامل ہو سکے لیکن ایک ذہین آدمی جب ایسے تبلیغ کرنے والوں کے واقعات سنتا ہے جس سے وہ متاثر ہوتا ہے تو اس کو فور چاہئے کہ اس سے استفادہ کرنے کا بھی تو سوچے۔اس کو چاہئے کہ مثلاً اپنے اخبار احمد یہ میں اگر اخبار احمدیہ کے نام سے کوئی چیز شائع ہورہی ہے یا سالوں میں یا دیگر ممالک کے رسالوں میں ان دلچسپ اور دلکش اثر انداز ہونے والے واقعات کو شائع کرے پھر نو جوانوں کو اس کے ساتھ ملائے ان کو کہتے کہ تم اپنے محلے میں جہاں جہاں نماز ہوتی ہے وہاں دورہ کرو اور بیٹھ کر مجالس لگاؤ اور یہ باتیں سناؤ تو کئی رنگ میں ایک اچھے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اس کے نتیجہ میں نئے تجارب مہیا ہو سکتے ہیں یعنی انسان کونئی نئی باتیں سوجھ سکتی ہیں اور وہ ان پر عمل کر سکتا ہے اور پھر نئے دلچسپ تجربے ظہور میں آسکتے ہیں تو کام ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے اگر آپ کام کریں۔