خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 908
خطبات طاہر جلد ۱۰ 908 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء موجود ہے۔بعض دفعہ عربی کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کوئی کیسٹ ہو، کوئی ابتدائی معلومات کی کتابیں ہوں تو ہمیں بتائی جائیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ جماعت اس وقت تک لٹریچر کی تیاری میں اور آڈیو ویڈیو سامانوں کی تیاری میں کس حد تک آگے جا چکی ہے اور کیا کیا چیزیں مہیا ہو چکی ہیں؟ اگر کثرت کے ساتھ یہ معلومات بہم پہنچائی جائیں اور جماعت کے اخبارات ورسائل میں بار بار یہ بیان کی جائیں اور عہدیداران کے ذریعہ بھی اعلان کروائے جائیں۔کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے بروشرز ، چھوٹے چھوٹے خوبصورت پمفلٹ شائع کر کے ان میں بھی تمام احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا جائے کہ ہمارے پاس یہ یہ چیزیں بھی ہیں۔کبھی آپ کو ضرورت ہو تو ان کو استعمال کر کے دیکھیں اور اس کے نتیجہ میں آپ کے لئے تبلیغ کی راہیں آسان ہوں گی۔خدا کے فضل سے اس وقت تک اتنی زبانوں میں لٹریچر تیار ہو چکا ہے کہ خود وہ لوگ جن کی زبانوں میں لٹریچر ہے وہ جب دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں اور بعض ایسے مخالفین جو اس سے پہلے جماعت کے شدید مخالف تھے انہوں نے جب جماعت کی بعض نمائشوں میں اس لٹریچر کو دیکھا تو بڑے زور کے ساتھ گواہی دی کہ وہ سب جھوٹے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تم مسلمان نہیں ہو کیونکہ اسلام کی اتنی خدمت اور ایسے احسن رنگ میں اسلام کی خدمت کبھی کسی کو دنیا میں اس کی توفیق نہیں ملی۔ان کی مراد اس زمانہ سے ہے نعوذ باللہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کو شامل کر کے تو یہ نہیں کہتے ، تو کبھی کا لفظ جب بھی کبھی بولتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ ہمارے علم میں ہمارے موجودہ زمانہ میں ہم نے کسی اور کو نہیں دیکھا کہ ایسی خدمت کرتا ہو۔اسی طرح مختلف ایمبیسیز (Embassies) ہیں ان کے نمائندے مختلف ممالک میں جا کر احمدی لٹریچر کو دیکھتے ہیں تو غیر معمولی طور پر دلچسپی لینے لگ جاتے ہیں۔لیکن اس سلسلہ میں لاعلمی کی جو کوتاہیاں ہیں ان کا آغاز خود امیر جماعت یا عہد یداران سے ہے مثلاً ان کو سرسری علم تو ہے کہ ہمارے پاس رشین زبان میں قرآن کریم کے تراجم موجود ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ ایک میں دو ہیں، تین یا چار ہیں کسی کو دے بھی سکتے ہیں کہ نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پارسل گئے وہ کھل کر کسی جگہ لگ گئے اور مزید تفصیل سے دلچسپی نہیں لی گئی کہ ان کو آگے استعمال بھی کرنا ہے کہ نہیں۔پس معلومات سرسری بھی ہوا کرتی ہیں اور گہری بھی اور گہری معلومات کا تعلق ذاتی دلچسپی سے ہے۔مثلاً اگر مجھے کوئی کتاب آئے تو بعض دفعہ میرا دل چاہتا ہے کہ فوراً