خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 909
خطبات طاہر جلد ۱۰ 909 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء جماعت کے صائب الرائے لوگوں کو، دانشوروں کو یہ کتاب ضرور پہنچائی جائے۔ایسی صورت میں بعض دفعہ ان کی فوٹو کا پیز کروا کر امراء کو بھجوائی جاتی ہیں۔بعض اور دانشوروں کو بھجوائی جاتی ہیں کیونکہ مجھے اس میں دلچسپی ہے اور اس بات میں دلچسپی ہے کہ جماعت کے زیادہ سے زیادہ دوستوں کو بعض امور کا علم ہواور ان کے اندر جستجو کا شوق ہولیکن اگر ایک امیر اس میں دلچسپی نہیں لیتا تو اس کی معلومات سرسری رہیں گی۔اگر وہ دلچسپی لے گا تو مثلاً جب اس کو پتہ چلا کہ آج ہمارے پاس روسی زبان میں قرآن کریم کا تحفہ آیا ہے تو وہ کہے گا کہ کتنے ہیں۔اس سے فائدہ کس طرح اٹھانا ہے۔بعض رشینز Russians کی تلاش کی جائے وہ ہیں کہاں؟ ان کو پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔معلوم کیا جائے کہ ان پر کیا تاثرات پیدا ہوتے ہیں لیکن چونکہ بات وہیں ختم کر دی گئی اس لئے مزید معلومات حاصل نہیں کی گئیں۔پھر اچانک مجھے خط ملا ( میں مثالیں دے رہا ہوں نام نہیں لوں گا) کہ آپ نے ہدایت کی تھی کہ ایمبسڈ رز کو بلاؤ دعوت دے کر اور نمائش دکھاؤ اور ان سے رابطے پیدا کرو ہم نے روسی ایمبسڈ رکو بلایا اس نے بہت خوشی سے دعوت کو قبول کیا لیکن ہمیں بہت شرمندگی ہوئی کہ جب اس نے قرآن کریم خرید نے کی خواہش ظاہر کی اور ہم نے دیکھا تو ایک ہی نسخہ تھا جو لائبریری کے لئے تھا اور اس کے سٹاف نے بھی بڑی دلچسپی لی لیکن ہم نے ان کو پتے لکھ دیئے ہیں کہ کہاں سے منگوائے جاسکتے ہیں۔اب یہ تو کوئی بات ہی نہیں۔بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ جب آپ دعوت دیتے ہیں تو آپ کو کم سے کم یہ توقع تو کرنی چاہئے کہ جو چیز دکھا ئیں گے جس کی وہ زبان ہے اس میں وہ اگر کسی لٹریچر میں دلچسپی لے گا کسی کتاب میں دلچسپی لے گا تو مانگے گا بھی تو سہی اور اگر نہ بھی مانگے تو کچھ نہ کچھ تو اس کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے آپ کو زائد ضرور رکھنا چاہئے تو معلومات کی کمی اور معلومات میں دلچسپی کی کمی دونوں عملاً ایک ہی نتیجہ پیدا کرتے ہیں اور وقت کے اوپر وہ ضرورت کی چیز کام نہیں آسکتی۔پس معلومات پہنچانی ہیں اس طرح نہیں جیسے سر سے بوجھ اتارا جائے ایک دفعہ ایک لسٹ شائع کر کے اگر آپ ساری جماعت میں تقسیم کروا دیں تو یہ معلومات پہنچانا میرے نزدیک نہیں ہے کیونکہ میں معلومات ان باتوں کو کہتا ہوں جن میں وہ دلچسپی پیدا ہو، جن کو انسان استعمال کرسکتا ہوورنہ وہ معلومات جو عمل کی سطح پر ذہن کے سامنے حاضر نہ رہیں وہ رفتہ رفتہ لاشعور میں دینی شروع ہو جاتی ہیں اور ایسے ہی ہے جیسے نہ ہوں پس معلومات پہنچانا اور بیدار مغزی کے ساتھ ان کو لوگوں کے