خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 902 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 902

خطبات طاہر جلد ۱۰ 902 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء بھی ہوائیں مدد کرتی ہیں۔اور موٹروں کی بھی مدد کرتی ہیں۔پیدل چلنے والوں کو بھی مدد کرتی ہیں لیکن جو ہوا کے مخالف چل رہا ہو اس کی کیسے مدد کر سکتی ہیں۔اس لئے دعاؤں کا مضمون بھی ہواؤں سے ایک نسبت رکھتا ہے۔پس یا درکھیں کہ آپ کے حق میں آپ کی اپنی دعائیں یا میری دعائیں یا ان بزرگوں کی دعا ئیں جو ہم سے پہلے گزر گئے اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے دعائیں کرتے کرتے انہوں نے جان دی تبھی مقبول ہونگی جب آپ ان دعاؤں کے رخ پر سفر کرنے کے ارادے کریں گے اور جب ان ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشش کریں گے تو پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی رفتار کو کس طرح غیر معمولی الہی تائید حاصل ہوتی ہے۔پس یہ ۷۰، ۲۰۰،۱۰۰،۸۰ ، یورپ اور امریکہ اور کینیڈا کی اطلاعات ایسی تکلیف دہ ہیں کہ دل حیران ہو جاتا ہے کہ ان کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور کیوں یہ یقین نہیں کرتے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے چند افراد چند اور آدمی پیدا کر رہے ہیں تو باقی افراد کیوں بانجھ پڑے ہیں۔وہ بانجھ نہیں ہیں آپ نے ان کیلئے وہ ماحول نہیں پیدا کیا جس میں وہ نشو و نما پا سکتے ہیں ان کی اتنی تربیت نہیں کی ، ان کی مدد نہیں کی ، ان کے مسائل پر پورا غور نہیں کیا۔یہ جائزہ نہیں لیا کہ آپ کس طرح تبلیغ کر رہے ہیں، اس میں کیا کیا نقص رہ گئے ہیں؟ کون سے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں تھے جو نہیں کئے ، کون سے ذرائع ہیں جن کا ذکر کاغذوں میں تو ملتا ہے لیکن عمل کی دنیا میں نا پید ہیں۔ان سب جائزوں کے بغیر جس کو میں محاسبہ کا نام دے رہا ہوں آپ کے سفر کا آغاز ہو ہی نہیں سکتا۔پس آج کے خطبہ میں آخری نصیحت یہی ہے کہ آپ محاسبہ کریں اور منصوبہ بنانے سے پہلے خوب اچھی طرح معلوم کر لیں کہ ساری جماعت میں کہاں کہاں کیا کیا کیفیت ہے، کس صلاحیت کے لوگ ہیں؟ کون سے ایسے ہیں جو تبلیغی لحاظ سے نشو و نما کی صلاحیت اس حد تک رکھتے ہیں کہ آپ انکوتھوڑا سا بھی سمجھا ئیں اور ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا ئیں تو وہ چل سکتے ہیں؟ کتنے ایسے ہیں جو ابھی اس معیار سے نیچے ہیں اور ان کی صلاحیتیں مخفی ہیں ابھی ان پر زیادہ محنت اور کام کی ضرورت ہے۔ہر پہلو سے یہ جائزے لے کر جب آپ مکمل طور پر اپنی پہچان کر لیں گے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں تو اس