خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 903 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 903

خطبات طاہر جلد ۱۰ 903 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء کا نام محاسبہ ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ محا ہے ہی کا دوسرا نام روشنی ہے۔ہر سفر کے آغاز سے پہلے اگر اندھیروں کا سفر ہو تو روشنی کی ضرورت ہے اور محاسبہ آپ کو روشنی عطا کرتا ہے۔اگر اپنا محاسبہ کئے بغیر آپ سفر کریں گے تو آپ ٹھوکریں کھائیں گے۔آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ کس رخ پر جانا ہے اور وہ سفر اگر طے بھی ہو تو بڑی مصیبت اور مشکل سے طے ہو گا لیکن تیز رفتاری سے ہرگز نہیں۔روشنی مل جائے تو اندھیروں کا سینہ چیرتے ہوئے وہ آگے آگے بڑھتی ہے اور آپ کو ساتھ لئے لئے جس رفتار سے آپ چاہیں آپ کو آگے بھگائے پھرتی ہے اور بہت قوت اور یقین اور حوصلے کے ساتھ آپ پر خطر راہوں کے بھی سفر کر سکتے ہیں کیونکہ آپ کو خطرات دور سے دکھائی دیتے ہیں۔پتہ لگتا ہے کہاں کوئی جانور ہے، کہاں کوئی پتھر ہے، کہاں کوئی گڑھا ہے، کہاں سٹرک کا کنارہ ہے، کہاں جھاڑیاں ہیں ، کہاں قدم رکھنے ہیں کہاں نہیں رکھنے؟ یہ باتیں محاسبہ سے ملتی ہیں۔پس دعا کے بعد جو ہمیشہ اولیت رکھتی ہے اور ہمیشہ اولیت رکھے گی اور پھر ساتھ ساتھ چلے گی آپ کو تبلیغ کا سفر کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔جن جن باتوں کی میں نے نشاندہی کی ہے ان میں بھی محاسبہ کریں اور پھر اس محاسبہ کے بعد منصوبہ بنانے میں اگلا قدم کیا ہونا چاہئے اس کی کچھ تفاصیل انشاء اللہ میں آئندہ خطبہ میں بیان کرونگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ تمام ممالک کے امراء اور ان کے ساتھی ، ان کی مجالس عاملہ خواہ انکا شعبہ اصلاح وارشاد سے تعلق ہو یا نہ ہو وہ سارے اپنی زندگی کا اعلیٰ مقصد یہ بنائیں گے کہ ہم نے تبلیغی نقطہ نگاہ سے جماعت میں ایک انقلاب برپا کر دینا ہے ایک نئی فضا پیدا کرنی ہے ،نئی زمین بنانی ہے، نیا آسمان بنانا ہے کیونکہ اس بوسیدہ زمین اور بوسیدہ آسمان میں تو ہمارے سفر طے نہیں ہو سکتے جس میں آج ہم سانس لے رہے ہیں۔ہماری صلاحیتوں کی اکثریت بیکار بیٹھی ہوئی ہے۔ہم کو خدا تعالیٰ نے نشو ونما کی جو طاقتیں دی ہوئی ہیں ان کو پنپنے کے لئے جس ماحول کی ضرورت ہے ابھی وہ میسر نہیں ہے۔اس لئے اس مضمون پر انشاء اللہ آئندہ مزید روشنی ڈالوں گا۔اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم جلد جلد بیدار ہوں اور بیدار ہونے کے بعد نئی بیداریوں کے سفر شروع کریں نئی صلى روشنیاں ہمیں عطا ہوں۔ہماری رفتاریں بڑھیں اور دیکھتے دیکھتے ہم حضرت محمد ﷺ کے زندگی بخش دین کو ساری دنیا میں پھیلانے میں کامیاب ہو جائیں۔آمین