خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 899
خطبات طاہر جلد ۱۰ 899 خطبہ جمعہ ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ء دفعہ ایسے ذرائع سے ہوتی ہے جو ان کے اختیار میں ہی نہیں ہوتے۔خدا کی تقدیر کا وعدہ ہے کہ میں غالب آؤں گا اور غالب کروں گا تو زمانے کے حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ اکثریت ان کے ساتھ ہو جاتی ہے مگر ضروری نہیں کہ ان کے اندر صلاحیتیں باقی رہی ہوں۔ضروری نہیں کہ وہ صالح لوگ رہیں۔بہت سی فتوحات ایسی بھی ہوتی ہیں جبکہ امتیں بیمار ہو چکی ہوں اور پھر فتح نصیب ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم جب تک کمزور اور محدود تھی باصلاحیت تھی۔اس میں ایسے لوگ تھے اور بڑی کثرت سے تھے جنہوں نے وحدانیت کو ہمیشہ زندہ رکھا، وحدانیت سے چھٹے رہے ، وحدانیت کا علم بلند رکھا اس کی خاطر قربانیاں دیں ،خدا کی توحید پر قائم رہے۔ان کا ذکر سورۃ کہف میں اصحاب الکہف کے ذکر میں ملتا ہے لیکن جب عیسائیت سے روم فتح ہو گیا تو ایسی حالت میں فتح ہوا کہ تثلیث پھیل چکی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ فتح کا وعدہ تو خدا نے پورا کر دیا کیونکہ وہ مسیح سے وعدہ تھا لیکن وہ ایک بیمار فتح تھی۔اس کے نتیجہ میں یہ نہیں کہ دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔میں پہلے بھی اس مضمون پر روشنی ڈال چکا ہوں کہ بچے مذاہب بگڑنے کے باوجود بھی بہت سی صلاحیتیں زندہ رکھتے ہیں اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ بچے مذاہب خواہ بگڑ چکے ہوں ان کے غلبے سے دنیا کو فائدہ نہ پہنچا ہو۔ایک جہت سے نہ ہو دوسری جہت سے پہنچ جاتا ہے مگر مذہب کا جو اصل اعلیٰ مقصد ہے وہ حاصل نہیں ہوتا اور ہر مذہب کا اعلیٰ مقصد توحید کا قیام ہے۔پس عیسائیت کی بڑی بدنصیبی ہے کہ ایسی حالت میں فتح پائی جبکہ تو حید بالعموم ہاتھ سے جاتی رہی تھی اور بہت تھوڑے تھے جو تو حید پر قائم تھے۔پس صرف یہ بحث نہیں ہے کہ آپ میں بڑھنے اور پھلنے پھولنے کی صلاحیت ہے بلکہ اس صلاحیت کو اس تیزی سے استعمال کریں کہ آپ کی روحانی صلاحیتیں ، ابھی زندہ ہوں اور ان میں نقص نہ پیدا ہو چکے ہوں۔اگر بیمار حالت میں آپ کو ترقی نصیب ہو تو اس ترقی کا کوئی نمایاں فائدہ نہیں ہے۔کچھ نہ کچھ فائدہ تو ضرور ہوگا لیکن اعلیٰ مقاصد میں آپ ناکام ہو چکے ہوں گے اس لئے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ترقی کی رفتار کا اقدار کی حفاظت سے ایک گہرا تعلق ہے۔بہت دیر تک اگر قوموں کو ترقی نہ ملے تو بعض دفعہ آہستہ آہستہ زنگ لگنے شروع ہو جاتے ہیں اور غیر معاشروں سے وہ مغلوب ہونے لگ جاتے ہیں۔اس لئے معاشرے کے اندر ایک طاقت پیدا ہونی چاہئے اور وہ تعداد کے بڑھتے رہنے سے ہوتی ہے۔وہ طاقت جو اس یقین