خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 894 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 894

خطبات طاہر جلد ۱۰ 894 خطبہ جمعہ ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ء کرنی چاہئے۔جیسی زندگی بخش طاقت اس زمانے کے مریضوں کے لئے اور کمزوروں اور نحیفوں کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت میں ہے ویسی کہیں اور نہیں دیکھی گئی۔چند فقرے پڑھنے کے بعد ہی انسان جھر جھری لے کر بیدار ہو جاتا ہے اور ان مضامین کو پڑھنے کے باوجود جن کے متعلق پہلے علم ہوتا ہے کہ کیا ہیں پھر بھی ہمیشہ نئی روشنی ملتی ہے، ہمیشہ نئی روحانی لذتیں عطا ہوتی ہیں۔تو کہنے والے کی بات کس نے کہی یہ اس لئے بھی اثر کرتی ہے کہ ایک مرتبہ اور مقام جو اپنے دل کو بھاتا ہے۔اپنے دل کو پیارا لگتا ہے اور پیار کے نتیجہ میں بات میں زیادہ اثر پیدا ہو جاتا ہے اور دوسرے یہ کہ جو کہنے والے خدا کے زیادہ قریب ہیں ان کی باتیں بھی خدا کے زیادہ قریب ہوتی ہیں اور ان میں اثر بھی نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔پس ہر خلیفہ کے وقت میں جو اس زمانے کے حالات ہیں ان کے متعلق جو خلیفہ وقت کی نصیحت ہے وہ لازماً دوسری نصیحتوں سے زیادہ مؤثر ہوگی۔اس تعلق کی بناء پر بھی اور اس وجہ سے بھی کہ خدا تعالیٰ نے جو ذمہ داری اسکے سپرد کی ہوتی ہے خود اس کے نتیجہ میں اس کو روشنی عطا کرتا ہے۔پس پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ ان حکمت کی باتوں کو سمجھیں اور انہیں تخفیف کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ حتی المقدور کوشش کریں کہ پُرانے دبے ہوئے ریکارڈ سے ان کیسٹس کو یا ویڈیوز کو یا تحریروں کو نکالیں اور اگر ساری جماعت کو یکدفعہ ان باتوں سے روشناس نہیں کراسکتے کیونکہ یہ بہت مشکل کام ہے میں جانتا ہوں، میں نے ہر میدان میں عملی کام کر کے دیکھے ہوئے ہیں کہنا آسان ہے کرنا اتنا آسان نہیں ہوا کرتا مگر یہ ضروری ہے کہ ہر مشکل سے مشکل کام بھی کچھ نہ کچھ ضرور کیا جا سکتا ہے۔پس میں یہ تقاضا نہیں کرتا کہ یہ ساری باتیں آنا فانا کر دکھا ئیں مگر آپ کے پروگرام میں ان کو ایک اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔آپ کے پروگرام میں ان کو ایک اقلیت نصیب ہونی چاہئے اور اس کے نتیجہ میں پھر ہر وقت جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ کتنے احباب جماعت تک جو تبلیغ کے کاموں میں متعلق ہورہے ہیں یہ باتیں خلیفہ وقت کی آواز میں اسی کی زبان سے پہنچائی جا چکی ہیں۔اب اس کیلئے ایک نظام مقرر کرنا پڑے گا امیر کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ تمام ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ہر وقت اس قسم کے تفصیلی مضامین کی بھی نگرانی کرے لیکن آخری نگرانی بہر حال اُسے کرنی ہے۔جہاں امیر کی آنکھ غافل ہوئی وہاں ہر طرف اندھیرا ہو جائے گا اس لئے امیر کے لئے ضروری ہے کہ ایسا نظام مقرر کرے کہ اس کے مددگار اور اس کے نصیر پیدا ہوں اور جب میں یہ کہتا ہوں تو معا قرآن کریم کی وہ آیت