خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 895 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 895

خطبات طاہر جلد ۱۰ 895 خطبه جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء پھر ذہن میں اُبھرتی ہے کہ وہ دعا اس موقعہ پر بہت ہی ضروری ہے۔رَّبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطَنَّا نَصِيرًا ( بنی اسرائیل: ۸۱) کیونکہ اس دُعا کا تعلق ظاہری سفر سے بہت زیادہ روحانی سفر سے ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی مے کو روحانی سفر میں جو مدارج عطا ہونے تھے ان مدارج سے تعلق ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ہر مرحلہ جو طے ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیر کے ذریعہ طے ہوتا ہے اور محض اپنی کوشش سے طے نہیں ہوتا۔پس اس دُعا کے ساتھ جب امراء اور دیگر عہدیداران اپنے کام کا آغاز کریں گے اور منصوبہ بندی کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کونئی روشنی نصیب ہوگی۔ان کو نئے مددگار ملیں گے اور یہ محض ایک عقلی استدلال نہیں ہے بلکہ تجربے کی بات ہے۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر دعا پر اخلاص کے ساتھ پورا انحصار ہو، یقین کے ساتھ انحصار ہو تو روز مرہ کے صرف طبعی مددگار نہیں ملتے بلکہ ایسے مددگار ملتے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ یقین دلاتا ہے کہ یہ دعا کا نتیجہ ہیں۔ایسے مددگار جو پہلے غافل تھے وہ جاگ اُٹھتے ہیں۔ایسے لوگ مدد کو آ جاتے ہیں جن کے متعلق انسان کو توقع ہی نہیں تھی اور نصیر کا مضمون دن بدن شہادت کی دنیا میں ظاہر ہوتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ کے فیض اور اس کا فضل نصیر کا روپ دھار دھار کر غیب سے وجود میں آجاتا ہے اور واقعہ آپ ان مددگاروں کو دیکھتے ہیں اور پھر وہ مددگار جو خدا کی طرف سے عطا ہوتے ہیں ان میں سلطانیت پائی جاتی ہے۔یہ ایک بہت ہی گہرا اور عظیم مضمون ہے جو قرآن کریم کی اس دعا نے ہمیں سمجھایا کہ دنیا کے مددگار ضروری نہیں کہ اپنی مدد میں طاقت بھی رکھتے ہوں اور ان کی مدد کو غلبے کی ضمانت نصیب ہومگر اس دعا کے نتیجہ میں جو مددگار ملتے ہیں ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم نے سُلطَنَّا نَصِيرًا مانگے تھے اور تمہیں سلطناً نَصِيرًا ہی عطا ہوئے ہیں اور اس طرح تم پہچان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہیں دعا کے نتیجہ میں ملا ہے۔سلطان کا مطلب ہے غالب، بادشاہ کو بھی سلطان کہتے ہیں جس میں طاقت ہو، جو کرنا چاہے وہ کر دکھائے ، جس میں دلیل بھی ہو معقولیت بھی ہو۔سلطان بہت عظیم لفظ ہے۔پس ایسے نصیر ملیں گے جو استدلال کی قوت رکھتے ہوں گے۔جن میں غلبے کی صلاحیت موجود ہوگی جو جیسا چاہیں وہ کر کے دکھا سکتے ہوں گے۔ایسے مددگار اگر حاصل کرنے ہیں تو اس سفر