خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 893 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 893

خطبات طاہر جلد ۱۰ 893 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء کو ہم حقیقت سمجھ رہے ہوتے ہیں ان کی اپنی حیثیت خواب اور افسانے کی ہوتی ہے۔یہ عمومی کیفیت ہے اس لئے انسان کو کسی مقام اور کسی مرتبے پر جا کر پورے یقین اور وثوق کے ساتھ یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ میرا روشنیوں کا سفر تمام ہوا اور مجھے سب کچھ حاصل ہو گیا۔یہ بجز کا مقام ہے جو انسان کی تعلیم وتربیت کرتا ہے۔دُنیا میں کوئی سفر بھی حقیقی بجز کے بغیر ممکن نہیں اور کوئی سفر بھی روشنی کے بغیر ممکن نہیں ، تو میں عہدیداران سے عاجزانہ طور پر یہ درخواست کرتا ہوں کہ جو کچھ اس مضمون پر ان کو سمجھایا گیا ہے وہ خود بھی سنیں اور توجہ سے سنیں اور پھر اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور اسی طرح جن لوگوں کو وہ اس کام میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔جن لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں اپنی زبان میں سُنانے کی بجائے میری زبان میں سُنا ئیں۔یہ کوئی بے وجہ تفاخر کے نتیجہ میں میں ہرگز نہیں کہہ رہا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو کہنا میرے لئے دشوار ہے کیونکہ میری ذات سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود اپنے حیاء کے جذبات کو قابو کر کے ایک فرض ادا کرنے کے طور پر کہہ رہا ہوں کہ خلیفہ وقت کو جو باتیں خدا تعالیٰ دینی کاموں سے متعلق سمجھاتا ہے ان کو کہنے کے انداز بھی عطا کرتا ہے اور ان باتوں میں جیسی گہری سچائی ہوتی ہے ویسی دوسرے کی باتوں میں جگہ جگہ کہیں کہیں تو ہو سکتی ہے مگر بالعموم ساری باتوں میں ویسی سچائی نہیں آسکتی اور ویسا اثر نہیں پیدا ہو سکتا۔دوسرے سننے والا ہمیشہ بات کے نتیجہ میں اثر قبول نہیں کیا کرتا بلکہ بسا اوقات کہنے والے کے اثر کے نتیجہ میں اثر قبول کیا کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسانی فطرت کا راز جسے سمجھے بغیر آپ خدمت دین کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ہے کلام الہی کا اپنا ایک اثر ہے۔اُسے لاکھ اپنی زبان میں سمجھانے کی آپ کوشش کریں جب تک کلام الہی کے حوالے سے وہ بات نہ سمجھائی جائے وہ اثر نہیں پیدا ہو سکتا۔حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے کلام کا ایک اثر ہے جو ۱۴۰۰ سال سے زائد عرصہ گزرا وہ کم ہونے میں ہی نہیں آتا وہ ایسی طاقت ہے جو ہمیشہ کی زندگی رکھتی ہے اور ایسا کلام ہے جس ک کوئی نظیر نہیں ہے۔اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کے بعد اگر کوئی زندہ کلام ہے تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا کلام ہے اور آپ کی برکت سے اور آپ کی غلامی میں پھر یہ طاقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نصیب ہوئی اور اسی لئے میں ہمیشہ زوردیتا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام خصوصاً ملفوظات کی طرف جماعت کو توجہ