خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 889 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 889

خطبات طاہر جلد ۱۰ 889 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو یہ توفیق بخشی ہے کہ قرآن کریم کی تفسیر ا چھوتے انداز میں قرآنی آیات کے دلائل پیش کر کے دنیا کے سامنے رکھی ہے یہ ایک اتنی عظیم نعمت ہے کہ اس سے جماعت کو خود بھی فائدہ اُٹھانا چاہئے اور اپنے دوسرے دوستوں تک بھی یہ نعمت پہنچانی چاہئے۔تفسیر کبیر مکمل چھپی ہوئی سب دنیا میں دستیاب ہے اور جو پہلی ۵ ہزار یا اس کے لگ بھگ جلد میں ہم نے طبع کرائی تھیں وہ ساری بک چکی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ پانچ ہزار گھروں میں تو یہ دستیاب ہونی چاہئیں لیکن ان میں سے کتنوں نے استفادہ کیا ہے یہ بات کہنی بہت مشکل ہے۔تو ضمنا میں نے توجہ دلائی کہ وہ جو پڑھ بھی لیتے ہیں وہ بھی ایک دفعہ کے پڑھے ہوئے کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکتے۔اس لئے وقتاً فوقتاً جہاں توفیق ملے جن آیات کی تلاوت کریں، وقت نکالیں کہ ان کے حوالے کے ساتھ تفسیر کبیر قرآن کریم کو بھی دیکھیں اور وہ دیکھیں گے کہ ہر دفعہ ان کے علم میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور روحانی لذت جو نصیب ہوگی اس کا تو کوئی شمار ہی نہیں کیونکہ قرآن کے ہر نئے نکتے کی معرفت کے وقت ایک روحانی لذت کی لہر سارے وجود میں دوڑ جاتی ہے اور یہ ایک ایسا لطف ہے جس کی کوئی مثال دنیا وی لطفوں میں نہیں ملتی۔اب میں اس مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جو میں نے گزشتہ جمعہ میں شروع کیا تھا یعنی دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں حکمت عملی کو اختیار کرنا کیونکہ قرآن کریم نے ہمیشہ دعوت الی اللہ کے مضمون کے ساتھ حکمت پر زور دیا ہے اور اسکے علاوہ صبر پر زور دیا ہے۔میں نے گزشتہ خطبہ میں یہ عرض کیا تھا کہ میں آئندہ انشاء اللہ عہدیداران منتظمین اور امراء کو مخاطب کرتے ہوئے ان کو سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے ان پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔پس دُعا کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور حکمت کا خلاصہ اور حکمت کی روح ہے کہ دعا کے ذریعہ کام شروع کیا جائے تمام امراء اور عہدیداران جن کا اس دعوت الی اللہ کے کام سے تعلق ہے ان کو میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ بہت دُعائیں کیا کریں اپنے لئے بھی اور اپنے تابع دوسرے خدمت دین کرنے والوں کے لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو حکمت کے اعلی گوہر عطا فرمائے اور قرآن کریم ایک مومن سے جیسی حکمت کا تقاضا کرتا ہے ویسی حکمت اپنے فضل سے خود آپ کو عطا فرمائے اور آپ کی تبلیغ کارگر ہو، ثمر دار ہو، اور محض ایک کوشش نہ ہو بلکہ ایک نتیجہ خیز کوشش ہو۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح