خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد ۱۰ 85 59 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء Rothschild کو ایک خط لکھا جس میں کیبنٹ کے ایک فیصلے سے اس کو مطلع کیا اور یہ Document کے طور پر چھپا ہوا موجود ہے کہ برطانوی حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ فلسطین میں اسرائیلیوں کو گھر دینے کے مسئلے پر ہر طرح تعاون کریں گے اور ہر طرح آپ کا ساتھ دیں گے اور ہاتھ بٹائیں گے۔یہ جو 16 17 1918 تک کے عرصے میں پھیلا ہوا ہے۔یہ دور اسلام کے خلاف سازشوں کا ایک نہایت ہی خوفناک اور سنگین دور ہے اور ان سازشوں میں سب سے زیادہ نمایاں حصہ اس وقت کی برطانوی حکومت نے لیا۔میں اس کی چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔1897ء میں First World Zionist Congress نے جو ڈیکلریشن دیا اس کا میں ذکر کر چکا ہوں جس کے اس وقت پریذیڈنٹ DR۔Theodor Herzl تھے اور اگست 1897ء میں یہ منصوبہ دنیا میں با قاعدہ شائع ہوا۔1917ء کو بالفور Balfour برٹش فارن سیکرٹری نے را تشیلڈ کو جو خط لکھا ہے اس کا میں ذکر کر چکا ہوں۔اس سے ایک سال پہلے 1916ء میں MR۔M Mahon جو انگلستان کی حکومت کے نمائندہ تھے انہوں نے مکہ اور مدینہ اور ارض حجاز کے گورنر شریف حسین صاحب کو ایک خط لکھا۔یہ شرق اردن کا خاندان تھا جو ترکی کی طرف سے ارض حجاز پر ترکی کی نمائندگی کرتا تھا اور اس خاندان کے افراد کو شریف مکہ کے طور پر یعنی مکہ کے گورنر کے لقب کے ساتھ وہاں گورنر بنایا جاتا تھا تو شریف مکہ کو Mc Mahon نے ایک خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر تم اس بات پر ہم سے اتفاق کر لو کہ ہم تمہیں ترکی کی ظالمانہ حکومت سے آزادی دلائیں اور آزا د عرب ریاست کے قیام میں تمہاری مدد کریں تو اس کے بدلے تم ہمیں یہ یہ مراعات دو۔کچھ علاقے A کے نام سے Mark کر کے نقشے میں ظاہر کئے گئے کچھ B کے نام سے اور کچھ فرانسیسی تسلط کے علاقے بتائے گئے ، کچھ انگریزی تسلط کے۔ان ساری شرائط کا خلاصہ یہ تھا کہ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے فارن پالیسی بنانے کا پورا اختیار انگلستان کو ہوگا یا فرانس کو ہوگا اور تمہیں اپنے بیرونی معاملات طے کرنے میں ان ان دائروں میں جن جن حکومتوں کا تسلط ہے ان کے مشورے اور اجازت کے بغیر کوئی کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی یہاں تک کہ کوئی یورپین مبصر اور کوئی یورپین مشیر تم وہاں سے نہیں بلا سکتے جب تک انگریزی تسلط کے علاقے میں انگریز سے اجازت نہ ملے یا