خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 880
خطبات طاہر جلد ۱۰ 880 خطبہ جمعہ ۸ / نومبر ۱۹۹۱ء طرف بغیر کسی دلیل کے بلانا ، ایک سچے دل کے ساتھ ایک گہرے جذبے کے ساتھ ، اس کامل یقین کے ساتھ کہ آپ حق پر ہیں اور آپ خدا کو جانتے ہیں ، خدا سے مل چکے ہیں اور واقعہ خدا کی طرف بلا رہے ہیں اور بلانا اسطرح کہ آپ بلانے سے پہلے آپ اپنے اعمال کو زینت بخش چکے ہوں اور آپ کے اعمال حسین ہو چکے ہوں۔جب اعمال حسین ہوں گے تو یہ قول حسن بن جائے گا، اس کے بغیر نہیں کیونکہ ان دونوں باتوں کو مشروط فرما دیا ہے وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ اس سے زیادہ کون اپنی بات میں حسین ہوسکتا ہے۔جو خدا کی طرف بلائے وَعَمِلَ صَالِحًا شرط یہ ہے کہ اس کے اعمال حسنہ ہوں۔اس کے اعمال کا حسن اس کی بات کے حسن میں تبدیل ہو گا۔اب یہاں ایک ایسا قول جس کا ذکر چل رہا ہے جو انقلابی طاقت رکھتا ہے جو دلوں کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔بعض قول حسن ، بڑی ہی دلکش با تیں ایسی ہوتی ہیں جن کا عمل صالح سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور بڑی بڑی چرب زبانی کے ساتھ وہ باتیں بیان کی جاتی ہیں۔مگر کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہی اس میں راز ہے کہ قرآن کریم کی اصطلاح میں قول حسن سے مراد یہ نہیں ہے کہ نہایت ہی خوبصورت انداز میں لپیٹ لپیٹ کر باتیں کرو اور ایسے چسکے کے ساتھ مضمون کو بیان کرو کہ سننے والے کا منہ بھی چٹخارے لینے لگے۔یہ موعظہ حسنہ نہیں ہے۔یہ لفاظی ہے یہ شاعری ہے یہ چرب زبانی ہے جو چاہیں اس کو کہہ لیں۔موعظہ حسنہ عمل حسن سے پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو و عمل صالحاً سے خوب کھول دیا تو قرآن کریم کی اصطلاحوں کو سمجھنے کے لئے قرآن کریم سے مدد لینے کی ضرورت ہے۔پس موعظہ حسنہ صرف اچھی نصیحت نہیں ہے، ایسی اچھی نصیحت ہے جس کی تائید میں بہت ہی حسین اعمال کھڑے ہوں جس کی پشت پناہی میں انسان کا عظیم کردار کھڑا ہو۔دنیا کے سامنے وہ ایک ایسا کردار لے کر نکلے جو نہ صرف بیدار ہو بلکہ جذب کرنے والا ہو، کھینچنے والا ہو، لوگ حیرت سے اس کو دیکھیں کہ یہ کون انسان ہے جو ہم میں اس دنیا میں بستا ہے لیکن ہم سے مختلف ہے اور میں نے پہلے بھی بارہا جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ اکثر کامیاب مبلغین وہی ہیں جن کا کردار ان کے قول کو حسن اور قوت بخشتا ہے اور انہی کے ذریعہ عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔پس آپ اس بات کو دوبارہ دعا کے ساتھ ملا کر دیکھیں تو ایک اور نیا مضمون ہمارے سامنے نکلتا ہے۔پہلے دعائیں کیں درد دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور التجائیں کیں کہ اے خدا ہم تیری راہ