خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 879
خطبات طاہر جلد ۱۰ 879 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو کچی راہ سے ضرور بھنکیں گے اور بھٹک جاتے ہیں اور اللہ ان لوگوں کو بھی بہتر جانتا ہے جو ہدایت پانے والے ہوتے ہیں۔تو مطلب یہ ہے کہ تم موعظہ حسنہ کرو گے تو ضروری نہیں کہ اس موعظہ حسنہ کے نتیجہ میں لازما عظیم الشان تبدیلیاں پیدا ہوں لیکن وہ لوگ جو پاک دل رکھتے ہیں وہ لوگ جو نیک فطرت رکھتے ہیں وہ ضرور اس موعظہ حسنہ سے کھینچے جائیں گے۔اس کے مقابل پر موعظہ سیئہ یعنی بری نصیحت کی تعریف یہ بنے گی کہ وہ نصیحت جو نیک فطرت لوگوں کو کھینچنے کی بجائے ان کو اور بھی دور کر دے۔پس موعظہ حسنہ میں پوٹینشل Potential ہے اس میں اندرونی صلاحیت اور قابلیت موجود ہے کہ اگر سننے والا صحت مند ہو اور اس کے اندر کوئی بیماری نہ ہو تو وہ ضرور اس نصیحت کی طرف کھینچا جائے گا اور بدنصیحت سے مراد یہ ہے کہ اچھی بات ہونے کے باوجود ایسے بے ہودہ رنگ میں پیش کی جائے کہ عام طور پر صحیح الدماغ صحیح صلاحتیوں والا انسان ہو اور وہ قریب آنے کی بجائے بھٹک جائے۔پس تبلیغ میں یہ احتیاط بڑی ضروری ہے اور یہ بھی حکمت ہی کی تفصیل ہے پس موعظہ حسنہ فرمایا اور دلائل کی بات ابھی نہیں کی۔دلائل بہت بعد میں آتے ہیں۔سب سے پہلے نیک نصیحت ہے جو عمل دکھاتی ہے اور قرآن کریم نے ہمیشہ موعظہ حسنہ کو دلائل سے پہلے رکھا ہے جہاں اس مضمون کا ذکر ہے وہاں موعظہ حسنہ کو پہلے رکھ دیا۔اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یہ بھی وہی مضمون ہے وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ حم السجدہ :۳۲) ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ اَحْسَنُ جو احسن چیز ہے اس کے ذریعہ بدی کو دور کرو۔ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِيدٌ پھر تم دیکھو گے کہ وہ شخص جو تم سے دشمنی رکھتا ہو وہ تمہارا گہرا جانثار دوست بن جائے گا۔دوست کبھی بھی دلائل کے ذریعہ نہیں بنا کرتے۔یہ بات آپ یا درکھیں۔یہاں کس حسن کا ذکر ہے وہ حسن جس کا جادو دل پر چلتا ہے اور وہ اخلاق حسنہ ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو شروع کرتے ہوئے فرمایا وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا۔اس سے زیادہ حسین قول کس کا ہو سکتا ہے جس نے خدا کی راہ میں بلایا اور نیک اعمال کے ذریعہ اپنے قول کو زینت بخشی۔پس قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے موعظہ حسنہ کی یہ تفسیر ہمیں معلوم ہوئی کہ خدا کی