خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 878 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 878

خطبات طاہر جلد ۱۰ 878 خطبہ جمعہ ۸/نومبر ۱۹۹۱ء کے مذکر ہونے کے اندر داخل ہے کیونکہ آپ کو نہ گرا (الطلاق:۱۱) فرمایا گیا ہے ایسا رسول جو مجسم ذکر ہے ذِكْر الفظ کے اندر خدا کی یاد اور نصیحت دونوں مضمونوں کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔پس اس سے زیادہ حسین نصیحت متصور ہی نہیں ہو سکتی جتنی حسین نصیحت آنحضرت یہ فرمایا کرتے تھے۔فرمایا إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكَّرَة لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِر لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ نہیں سنیں گے۔کچھ ایسے بدنصیب ہوں گے جو پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے ان کے متعلق فرمایا پھر تیرا کام نہیں ہے ان سے نپٹنا۔چونکہ بیماری ان کی ہے اور بد نصیب وہ ہیں اس لئے اس کی سزا وہ پائیں گے۔إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرْتُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ جو بيه پھیرے گا اور انکار کرے گا فَيُعَذِّبُهُ اللهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ اللہ تعالیٰ اسے عذاب اکبر میں مبتلا فرمائے گا۔پس موعظہ حسنہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ نصیحت جو لازماً دوسرے کو خوش کر دے۔وہ نصیحت جو لا زما دلوں کو کھینچے بلکہ موعظہ حسنہ سے مراد یہ ہے کہ ایسی حسین نصیحت جو صحت مند انسانوں پر نیک اثر پیدا کرنے والی ہو۔جو دلوں کے بیمار اور ٹیٹرھے ہیں ان کے رد عمل سے اس کی نصیحت کا غیر حسنہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اگر بیمار متلی سے مرتے ہوئے آدمی کو جو میٹھے کے تصور سے بھی قے کرتا ہو آپ انگور کھلائیں گے تو انگور اپنی ذات میں ایک اچھی چیز اور نعمت ہیں لیکن اس کے رد عمل کے نتیجہ میں انگور کوخراب تو نہیں کہا جا سکتا اس لئے دوسرے آدمی کی صحت ایک لازمی شرط ہے اس بات کے لئے کہ وہ نیک اثر قبول کرتا ہے یا نہیں۔پس موعظہ حسنہ کی تعریف یہ ہے کہ آپ کے دل سے موعظہ حسنہ اٹھی ہے سننے والے کے کانوں سے اس کا تعلق بعد میں پیدا ہو گا۔آپ کے دل سے ایسی پیاری آواز اٹھی ہے آپ کی زبان سے حسین رنگ میں وہ بات ادا ہوئی ہے اور آپ نے اس مضمون کو ایسے عمدہ رنگ میں جس کو سنا رہے ہیں اس کے سامنے پیش فرمایا ہے کہ اس کے نتیجہ میں اسے ضرور آپ کی طرف مائل ہونا چاہئے۔یہ ہے موعظہ حسنہ۔پھر اگر نہیں مائل ہوتا تو اس کا تعلق خدا سے ہے اس کا پھر بندے سے کوئی تعلق باقی نہیں رہتا اور اس کے مائل نہ ہونے کے نتیجہ میں اس پر کوئی حرف نہیں آتا۔پس یہی آیت کریمہ جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اعْلَمُ