خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 876 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 876

خطبات طاہر جلد ۱۰ 876 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء طرف مائل ہوتا ہو اور میں خدا تعالیٰ کی دعوت کے مضمون کو اس کے ساتھ چل کر اسی رو میں بہہ کر اس کے حضور پیش کروں یا ان باتوں سے میں غافل ہوں۔تو حکمت کے بہت سے موتی اس کو اسی تلاش کے دوران ملیں گے اگر وہ غوطہ لگانے کی استطاعت رکھتا ہو، اگر اس کو پتا ہو کہ اپنے نفس کو ٹو لنے کے لئے کیسی غوطہ خوری کرنی پڑتی ہے۔کس طرح محنت کے ساتھ اپنے نقائص کو تلاش کرنا پڑتا ہے تو بات وہی حکمت ہی کی ہے کہ حکمت کا اول اور آخر دعا ہے مگر دعا کے بعد اپنے نفس کی نگرانی اور محاسبہ یہ حکمت کا دوسرا تقاضا ہے اور بچے تو کل اور خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا ایک طبعی تقاضا ہے۔پس اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ بہت سے احمدی اس معاملہ میں بھی غافل ہیں اور انہوں نے کبھی نہ دعا پر اس رنگ میں توجہ دی جیسے دی جانی چاہئے ، نہ حکمت کے دوسرے تقاضے کو پورا کیا اور اگر دعا قبول نہیں ہوتی تو خدا پر الزام دھرنے کی بجائے اپنے نفس کا محاسبہ کیا ہو۔پس وہ سب لوگ جو سمجھتے ہیں کہ وہ تو پیغام پہنچارہے ہیں نتیجہ نہیں نکل رہا ان کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ان سب باتوں پر غور کیا کریں اور ہر چیز کا اپنے مقام پر حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔دعا کا حق ادا کرنے کا ایک طریق تو یہ ہے کہ کامل تو کل ہو اور یقین ہو کہ خدا دعاؤں کو سنتا ہے۔دوسرا حق ادا کرنا یہ ہے کہ اپنا دل اس دعا میں اٹک جائے اور دعا قبول نہ ہو تو مایوسی نہ ہو مگر دکھ ضرور ہو۔بعض دکھ رضا کے ساتھ بھی ہوتے ہیں۔ایک شخص اپنے محبوب سے کوئی استدعا کرتا ہے، اس سے کچھ چاہتا ہے اور وہ اسے نہیں دیتا تو وہ اس پر راضی ضرور ہوگا لیکن محرومی کا دکھ پھر بھی اپنی جگہ رہتا ہے۔پس دعا کے ساتھ دکھ کا مضمون شامل ہے اور اس کے ساتھ صبر کا تعلق ہے۔پس قرآن کریم نے جہاں دعوت الی اللہ کے لئے دعا کا مضمون سکھایا۔موعظہ حسنہ کا مضمون سکھایا وہاں صبر کا مضمون بھی ہمیشہ ساتھ بیان فرمایا۔تو دعا کے ساتھ سبھی صبر ہو سکتا ہے جب دکھ پہنچے ورنہ دیکھ کے بغیر صبر کے معنی ہی کوئی نہیں۔کون انسان خوشی پر صبر کرتا ہے کون انسان بے اعتنائی پر جب پرواہ ہی کچھ نہ ہواس پر صبر کرتا ہے اور آپ نے کس سے کوئی چیز مانگی اس نے نہیں دی آپ نے کہا جاؤ جہنم میں مجھے پر واہ ہی کوئی نہیں تو صبر کا یہاں کونسا مضمون ہے۔صبر کا مضمون تو وہاں شروع ہوتا ہے جہاں دکھ شروع ہو، جہاں تکلیف ہو۔تو قرآن کریم کی ان آیات نے ہمیں یہ طریق سمجھایا کہ جب دعا کرو تو پھر تمہیں دکھوں کے رستے سے گزرنا ہوگا، دعا بھی دکھ کے ساتھ کرنی ہوگی اور صبر کے ساتھ کرنی ہوگی اور دعا کے