خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 857 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 857

خطبات طاہر جلد ۱۰ 857 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء کر دیا اور خدا کے فضل سے وصولی بھی ایک لاکھ ۵۰ ہزار ۹۴۳ ہے۔اس ضمن میں میں یہ بات کھولنا چاہتا ہوں کہ جن جماعتوں کی طرف سے بعینہ اتنی ہی وصولی کی خبر ملتی ہے ان کے مالیاتی نظام کی صحت پرشک پڑ جاتا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں چندہ دہندگان موجود ہوں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ جتنا وعدہ کیا گیا ہو بعینہ اتنا ہی وعدہ پورا ہو۔وجہ یہ ہے کہ بعض وعدہ کنندگان بیچارے ایسے بھی ہیں جو بڑے اخلاص سے نیک نیتی سے وعدہ کرتے ہیں لیکن درمیان میں حادثات کا شکار ہو کر مالی لحاظ سے یہ توفیق نہیں پاتے کہ اپنے وعدے کو پورا کر سکیں چنانچہ بعض دفعہ ان کی طرف سے بڑی دردناک چٹھیاں ملتی ہیں کہ ہم مجبور ہو گئے ہیں اگر اجازت دی جائے تو کچھ عرصہ کے لئے ہمیں وصولی کی قید سے آزادی دی جائے، پھر جب خدا توفیق عطا فرمائے گا ہم شامل ہو جائیں گے تو یہ واقعات ہوتے رہتے ہیں۔یہ حوادث زمانہ ہیں ان سے کسی ملک کو بھی استثناء نہیں ہے۔جرمنی کو بھی نہیں ہے۔وہاں بھی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ عموماً ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو چندہ لکھواتا ہی نہیں اور اگر لکھوانا چاہے بھی تو کسی نہ کسی جگہ چندے لکھنے والوں کی طرف سے غفلت ہوتی ہے کیونکہ ہم نے بالعموم یہ دیکھا ہے کہ وصولی کی طرف تو زیادہ سنجیدگی سے توجہ دی جاتی ہے لیکن وعدے لکھوانے کی طرف اتنی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جاتی کیونکہ جماعت میں بالعموم یہ بڑا گہرا تاثر ہے کہ پیسہ تو ہم نے دینا ہی دینا ہے۔یا لوگوں نے چندہ تو ادا کرنا ہی کرنا ہے وصولی کے وعدے تو ایک رسمی سی چیز ہے، یہ نہ بھی ہو تو فرق نہیں پڑتا اس لئے میرا سالہا سال کا یہی تجربہ ہے جب میں وقف جدید میں بھی کام کرتا تھا کہ وعدے لکھوانے میں جماعتوں کی طرف سے سنتی ہوتی ہے اور عملاً وصولی کے وقت جماعتیں خدا کے فضل سے مستعد ہو جاتی ہیں۔پس وعدوں سے وصولی بڑھنی چاہئے اور بالعموم یہی ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ کم دے سکتے ہیں ان کے مقابل پر زیادہ دینے والے نسبتا زیادہ ہوتے ہیں اور بالعموم یہی شکل بنتی ہے کہ آخر وعدوں کے مقابل پر وصولی بڑھ جاتی ہے اس کے برعکس بعض اور جماعتیں بحیثیت ملک کی اقتصادی حالت کے بہت کمزور ہوتی ہیں یعنی سارے ملک کی اقتصادی حالت اتنی کمزور ہوتی ہے جیسے سیرالیون میں کہ ایک وقت کی روٹی بھی اکثر باشندوں کو میسر نہیں آرہی۔ایسے حالات میں وعدے خواہ کتنے ہی اخلاص سے لکھائے گئے ہوں سارے ملک کا اقتصادی معیار مہینوں کے اندر گرتا ہے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ کئی گنا روپے کی قیمت میں کمی واقع ہو جاتی ہے