خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 855
خطبات طاہر جلد ۱۰ 855 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء اس مضمون کو قرآن کریم نے اور بھی کئی جگہ مختلف رنگ میں بیان فرمایا ہے پس دشمن کی ہر وہ تحریک جو خدا تعالیٰ کی کسی تحریک کے مقابل پر اٹھتی ہے اور اس کو مٹانے کا عزم لے کر اٹھتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کے مقابل پر ایسی تحریکات جاری فرماتا ہے کہ دن بدن دشمن کے عزائم کو ناکام اور نا مراد بناتی چلی جاتی ہیں اور بالآخر فتح خدا تعالیٰ کی تدبیروں کی ہی ہوا کرتی ہے۔اس کا ایک نمونہ ہم نے تحریک جدید کی صورت میں دیکھا ہے۔جس طرح اس درخت نے نشو و نما پائی۔جس طرح اس کی شاخیں پھیلیں اور دور دور تک مختلف ممالک میں پھیل گئیں۔یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور وہ آنکھیں جو بینائی رکھتی ہیں اُن کے لئے احمدیت کی صداقت کے ثبوت کیلئے یہی ایک معجزہ کافی ہونا چاہئے مگر جن کو بینائی نصیب نہ ہو وہ تو سورج کو بھی نہیں دیکھ سکتے ان کے لئے تو کوئی معجزہ بھی کسی قسم کا فائدہ نہیں دے سکتا۔تحریک جدید کے چندوں کا جہاں تک تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیشہ قدم آگے کی طرف ہی بڑھا ہے اور گذشتہ چند سالوں میں خصوصیت کے ساتھ بیرون ممالک بہت آگے نکلے ہیں۔جب میں لفظ بیرونی کہتا ہوں تو چونکہ میرا وطن پاکستان ہے اور پاکستان کی نسبت سے یہ کہنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اس لئے مراد ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک ورنہ جہاں تک احمدیت کا تعلق ہے کوئی بیرونی ملک نہیں ہے۔سب احمدیت کے ممالک ہیں۔سب احمدیت کی سرزمینیں ہیں ہم ہر جگہ اندورنی ملک کے رہنے والے ہیں پس اس پہلو سے اس محاورے کو سطحی طور پر سمجھیں اس کو حقیقی معنوں پر اطلاق نہ کریں۔احمدیت کے لئے کوئی بیرونی دنیا نہیں سب احمدیت کی اپنی دنیا ہے۔پس جہاں تک پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ چند سالوں میں حیرت انگیز تیزی کے ساتھ جماعتوں نے قدم آگے بڑھائے ہیں یہاں تک کہ اگلے چند سالوں میں یہ خطرہ دکھائی دیتا ہے کہ بعض ممالک کے چندے پاکستان سے بھی آگے بڑھ جائیں اور ایک وقت ایسا تھا جبکہ پاکستان میں احمدیت کے دشمن اپنے منصوبے بناتے وقت اس بات کو اہمیت دیا کرتے تھے کہ احمدیت کے دنیا میں پھیلنے کی طاقت کا راز وہ چندے ہیں جو پاکستان میں اکٹھے ہوتے ہیں اور بیرونی ممالک پر خرچ کئے جاتے ہیں۔اگر پاکستان کے چندوں کا باہر نکلنا بند کر دیا جائے تو ان کی بیرونی سرگرمیوں کا دم گھوٹا جائیگا اس لئے کئی دفعہ وفود بنا کر یہ حکومتوں کے