خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 850
خطبات طاہر جلد ۱۰ 850 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء ہے بڑا سہی ، ہم بھی کون سے کم ہیں ، ہماری بھی کافی تعداد ہے یہ مقابلہ خوب رہے گا اس سے ان کے حوصلے جوان رہتے ہیں۔بہر حال یہ صورت حال ہے جو تعداد کے لحاظ سے مختلف نظریات اور مختلف جہتوں سے اندازے پیش کئے گئے ہیں مگر یہ سب اندازے ہیں۔میں نے جب بھی اس موضوع پر غور کیا میرے دل سے ہمیشہ دو دعائیں اٹھتی رہی ہیں۔ایک کے بعد دوسری اور میں آج ان دعاؤں میں بھی آپ کو شامل کرنا چاہتا ہوں اور اس مضمون کا تعلق تبلیغ کے ساتھ باندھ کر آپ کی ذمہ داری آپ پر روشن کرنا چاہتا ہوں۔میرے دل سے ہمیشہ ایک دعا تو یہ اٹھی کہ اے اللہ ! اگر ہم کم ہیں ، ایک کروڑ سے کتنا کم ہیں ہمیں علم نہیں لیکن تو یہ تو کر سکتا ہے کہ میری موت سے پہلے ہمیں ایک کروڑ کر دے تا کہ اس تسلی کے ساتھ میں جان دوں کہ میرے پہلے واجب الاطاعت امام خلیفہ نے جو اندازہ پیش کیا تھا میں مرنے سے پہلے یہ یقین سے کہہ سکوں کہ وہ اندازہ درست نکلا۔دوسری دعا میں نے یہ کی کہ اے خدا! تو مالک ہے قادر ہے یہ بھی تو کرسکتا ہے کہ میرے زمانے میں ایک کروڑ کر دے تا کہ ہم یہ تو کہہ سکیں کہ پہلے تو اندازے تھے اب اعداد و شمار سے ہم تمہیں دکھاتے ہیں اور واقعات تمہاری آنکھوں کے سامنے رکھتے ہیں کہ یہ دیکھو ایک ہی خلیفہ کے زمانے میں خدا تعالیٰ نے ایک کروڑ عطا کئے۔تو ان دونوں دعاؤں کی قبولیت کا تعلق تو خدا کی ذات سے ہے وہ ارحم الراحمین ہے۔میری تو دعا یہی ہے کہ وہ دوسری دعا قبول فرمالے لیکن جماعت کی کوششوں اور محنتوں اور مخلصانہ جد و جہد سے بھی اس بات کا تعلق ہے، دعاؤں کو عمل تقویت دیا کرتے ہیں۔قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب کھول کر بیان فرمایا ہے کہ کلمہ طیبہ کو عمل صالح رفعت عطا کرتا ہے۔پس دعاؤں کو بھی نیک اعمال سے رفعت عطا ہوا کرتی ہے اس لئے اگر ساری جماعت یہ کوشش کرے کہ ہم اس دور میں ایک کروڑ اور ہو جا ئیں تو ہر گز بعید نہیں ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کے آثار دکھانے شروع کر دیئے ہیں اور خدا کے فضل سے نہ صرف یہ کہ جماعت میں بیعتوں کا رجحان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ بعض نئے علاقے سامنے آرہے ہیں جن کے متعلق توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری التجاؤں کو قبول فرمائے اور جماعت کو خدمت کی توفیق بخشے تو علاقوں کے علاقے احمدی ہوں گے۔جہاں تک ان اعدادو شمار کا تعلق ہے جن کے متعلق ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ان میں کوئی مبالغہ نہیں ہے اور سو فیصد درست اعدادوشمار ہیں۔جن کے متعلق تحریری طور پر بیعتوں کا ریکارڈ موجود ہے۔وہ اب میں