خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 851
خطبات طاہر جلد ۱۰ 851 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ خدا کی تقدیر حرکت میں ہے اور قبولیت دعا کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔اگر ساری جماعت دعوت الی اللہ کے کام کو سنجیدگی سے لے اور دعائیں کر کے ہر شخص یہ کوشش کرے کہ میں ایک سے دو اور دو سے چار ہونا شروع ہو جاؤں تو مجھے کامل یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں خدا تعالیٰ یہ عظیم خوشخبریاں دکھائے گا۔جب میں انگلستان پہنچا ہوں تو اس سال دسمبر ۸۴ ء تک ۴۸۴۱ بیعتیں ہوئی ہیں۔پاکستان میں تو ہم نے ان دنوں میں ریکارڈ ظاہر کرنا بند کر دیا تھا۔ابھی بھی بند ہیں لیکن یہ میں باہر کی دنیا کی بتا رہا ہوں۔اگلے سال یہ بڑھ کر ۹۵۲۳ ہو گئیں۔اس سے اگلے سال ۱۲۶۸۹ اور اس سے اگلے سال ۱۵۰۵۹ گویا پہلے تین سال میں تقریباً ۲۵ ہزار اور چوتھے سال کو ملا کر ۴۰ ہزار کے قریب ۴ سال میں بیعتیں ہوئی ہیں اور بقیہ سالوں کا اندازہ کر لیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ ترقی دے رہا ہے۔اب تک میرے یہاں قیام کے دوران موجودہ سال نکال کر ۲ لاکھ ۳۷ ہزار۸۶۷ بیعتیں ہو چکی ہیں تو کہاں وہ ۴ ہزار فی سال کی تعداد اور کہاں یہ تیزی کے ساتھ بڑھتا ہوا رجحان کہ گزشتہ سال میں پہلے چارسال کے معمولی چند ہزار شامل کر کے دو لاکھ ۳۷ ہزار بیعتیں ہو چکی ہیں اور جو موجودہ سال ہے اس میں بھی میرا اندازہ ہے کہ چالیس کے اوپر پچاس کے لگ بھگ ہوں گی۔اب تک جو چند مہینوں کے اعداد و شمار آچکے ہیں۔ان میں ۲۰ ہزار سے زائد تو موصول ہو چکی ہیں اسلئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ تعداد ۵۰ کے لگ بھگ ہوگی تو اگر یہ بھی شمار کریں تو ان ۸ سالوں میں کل تعداد ۲ لاکھ ۷۷ ہزار ۸۶۷ بنتی ہے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان چند سالوں میں جماعت کی رفتار کوکس تیزی سے بڑھانا شروع کیا ہے اور بعض ایسے علاقے ہیں جہاں کام ہورہا ہے اور ان کے نتائج کے متعلق میں امید رکھتا ہوں کہ جس طرح درختوں کے پھل پکنے میں کچھ وقت لیتے ہیں لیکن پکنے کا عمل سب پھلوں پر شروع ہو چکا ہوتا ہے اسی طرح بعض علاقے ایسے ہیں جہاں پھل پک رہے ہیں۔پس اگر ہم دعاؤں میں غفلت نہ دکھا ئیں ، اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور جماعت کو خدمت کی توفیق بخشے تو جو پھل پک رہے ہیں یہ اکٹھے جھولی میں گریں گے اور تھوڑے عرصے کے اندراندر لکھوکھا بیعتیں ہو سکتی ہیں۔پس جو باتیں میں اب آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اس میں کوئی تخمینہ نہیں ہے۔یہ واقعات کی دنیا کی باتیں کر رہا ہوں اور یہ حقیقت ہے کہ خدا تعالیٰ بظاہر ناممکن دعاؤں کو