خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 849 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 849

خطبات طاہر جلد ۱۰ 849 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء ہیں۔” ملک میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ چار ہزار دو سو چوالیس ہے۔“ (روز نامہ وفاق۔لاہور ) اب یہ ایسی مضحکہ خیز بات ہے کہ ہر احمدی جو پاکستان کی جماعتوں کو جانتا ہے جس نے دورے کئے ہوئے ہیں یا ویسے بھی جلسے دیکھے ہوئے ہیں اس کو پتہ ہے کہ ایک ایک جلسے میں اس سے بہت زیادہ تعداد موجود تھی۔مجھے یاد ہے جب میرا پاکستان میں ۱۹۸۳ء کا آخری جلسہ تھا تو اس میں ۲لاکھ ۵۰ ہزار سے زائد حاضرین شامل تھے۔ان میں سے چند ہزار غیر احمدی بھی ہوں گے کیونکہ احمدی دوست اپنے ساتھ لایا کرتے تھے مگر یہ تو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں اس کے بعد ان کا یہ اعلان ہے کہ ایک لاکھ ۴ ہزار ۲۴۴ ہیں یہ حکومت کی بیان کردہ تعداد ہے۔اب اس پر مزید چھلانگ انہوں نے یہ لگائی کہ جینیوا میں انسانی حقوق کے عالمی کمیشن کا ایک اجلاس ہوا ، جس کے سامنے جماعت احمدیہ کے نمائندوں نے بھی پاکستان میں احمدیوں پر گزرنے والے حالات رکھے اور حکومت کے نمائندے نے با قاعدہ رسمی طور پر وہاں یہ اعلان کیا کہ یہ جو کہتے ہیں ہم اتنی بڑی تعداد میں ہیں اور۔۔۔مظالم ہور ہے ہیں اور اتنے مظالم ہورہے ہیں یہ سب جھوٹ ہے۔مظالم ہو بھی رہے ہیں تو تمہیں کیا ؟ چھوٹی سی تو جماعت ہے اتنی سی جماعت پر مظالم ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ ہماری تحقیق کے مطابق سارے پاکستان میں جماعت احمدیہ کی تعداد ۶۰ ہزار ہے۔تو ایک طرف وہ بھی کم کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں بھی وہ کم دکھائی دیتے ہیں تو اندازوں کی غلطیوں میں ایک جماعت معصوم ہے اور ایک جماعت عمد أغلط بیانی سے کام لے رہی ہے لیکن یہ الہی تصرف ہے کہ وہ ہمیں معمولی سمجھتے ہیں۔ہم اپنی تعداد کو ان سے زیادہ سمجھتے رہے اور دونوں باتوں فائدہ ہمیں پہنچا ہے کیونکہ جنگ بدر میں بھی ان دونوں غلطیوں کا فائدہ مسلمانوں ہی کو پہنچا تھا اگر ایک بڑی تعداد اپنے مد مقابل کو چھوٹا سمجھے تو وہ اسے حقیر سمجھ کر اتنے ذرائع کام میں نہیں لاتی جتنے ذرائع کی اس جدوجہد میں ضرورت ہونی چاہئے یعنی ذرائع موجود بھی ہوتے ہیں۔طاقت موجود ہوتی ہے لیکن مد مقابل کو حقیر اور معمولی سمجھ کے وہ پوری کوشش کو بروئے کار نہیں لاتے اس لئے ان کا نقصان ہوتا ہے۔وہ جماعت جس کے مد مقابل بہت بری طاقت ہو ان کو اگر اتنی طاقت دکھائی دی جائے تو ان کے ڈر کے مارے حوصلے پست ہو جائیں اور ان کی بقاء مشکل ہو جائے اس لئے اللہ تعالیٰ نے نفسیاتی لحاظ سے اس غلطی کا فائدہ بھی ان کو ہی پہنچایا اور وہ اس حو صلے میں رہتے ہیں کہ نہیں دشمن ٹھیک