خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 848 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 848

خطبات طاہر جلد ۱۰ 848 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء تاریخی طور پر جماعت ایک دفعہ اتنی پھیل چکی ہے کہ ایک کروڑ سے زائد یقینا اس کی تعداد پہنچ چکی ہے لیکن جو لوگ نام کے نہیں رہے یا خاندان کے خاندان یا علاقوں کے علاقے جو پیچھے بھی ہٹ چکے ہیں اگر آپ ان سے رابطے کریں اور مولوی کے معلوم کرنے کا خوف ان کو دامنگیر نہ ہو تو وہ آپ کے سامنے آج بھی یہی گواہی دیں گے۔چنانچہ ایک دفعہ کی بات نہیں، بیسیوں مرتبہ مجھ سے ایسا ہوا ہے کہ وہ احمدی جن کے آباؤ اجداد احمدی تھے جو جماعت کے ریکارڈ میں ایک دفعہ احمدی کے طور پر لکھے گئے ان کی اولا د غیر احمدی ہوتے ہوئے بھی جب علیحدگی میں ملتی ہے تو تھوڑی سی بے تکلفی کے بعد ان کے دل سے یہ آواز اٹھتی ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ احمدیت کچی ہے ہمارے بزرگ والدین درست تھے ہم بھی دل سے احمدی ہیں مگر مجبور ہیں۔بنگال میں بھی مجھے اس کا بار ہا تجر بہ ہوا۔ادھر پنجاب میں ہوا ، سرحد میں ہوا، ابھی کچھ عرصہ پہلے جہلم ہی کے ایک علاقے کے (جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے ) ایک معزز خاندان کے دوست تشریف لائے ہوئے تھے۔ان سے میری بات ہوئی انہوں نے کہا: ہاں جی ! میں جانتا ہوں ، ہمارے آباؤ اجداد سارے کے سارے، سارا علاقہ احمدی تھا اور دل کی بات پوچھیں تو میں بھی احمدی ہوں ، اور ہمارے دل میں حضرت مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت جاگزیں ہے مگر مجبور ہیں۔ہم لوگ سیاسی بن چکے ہیں، دنیا دار ہو گئے تو اس کیلئے ایک جواز ہے۔ایسا جواز نہیں جو محض دور کا جواز ہو واقعہ پچھلی سوسالہ تاریخ میں جماعت ایک کروڑ کی حدوں کو مس کر چکی ہے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ان لوگوں سے دوبارہ رابطے زندہ کریں۔جو لوگ کھوئے گئے یا پیچھے ہٹے ان کو کھینچ کر لا ئیں۔اس لئے اس مبالغہ میں (اگر یہ مبالغہ کہتے ہیں ) تو کوئی ایک بنیاد موجود ہے اسے کلیہ ہوائی بات نہیں کہا جاتا مگر ان کی باتیں آپ سنیئے کیسی ہیں۔ایک جگہ جماعت اسلامی کے ۱۹۷۰ء کے اعلان کے مطابق چند لاکھ بھی احمدی نہیں اس سے ۱۴ سال کے بعد یعنی ۱۹۸۴ء میں مفتی مختار احمد نعیمی صاحب سیکرٹری جنرل مجلس عمل نے اعلان کیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد کسی طرح بھی ایک لاکھ سے زیادہ نہیں (روز نامہ وفاق، لاہور۔۱۲ جولائی ۱۹۸۴ء) یعنی اب پہلے تین مہینے کے اندراندر چند لاکھ سے بڑھ کر۲۲لا کھ رضا کاروں تک بات پہنچ گئی پھر تقریباً ۱۴ سال کے بعد وہ تعداد گھٹتے گھٹتے ایک لاکھ بھی نہیں رہی۔پھر راجہ ظفر الحق صاحب جو ایک زمانے میں مرکزی حکومت میں وزیر تھے ان کا ایک باقاعدہ معین اعداد و شمار کے ساتھ اعلان شائع ہوا۔وہ کہتے