خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 847 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 847

خطبات طاہر جلد ۱۰ 847 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء نے کہا کہ میں مباہلہ کرتا ہوں میں نے کہا: ہرگز مباہلہ نہیں کرنا کبھی اندازوں میں بھی مباہلے ہوئے ہیں اور پھر تعداد کا مضمون ایسا مضمون ہی نہیں ہے جس میں مباہلے کئے جائیں۔کسی کی صداقت کا مضمون ایسا مضمون ہے جس میں مباہلے کئے جاتے ہیں یہ تو ایک لغو بات ہے کہ ہر بات کو کھیل بنالو اور مباہلہ کر لو حالانکہ مباہلے کا مطلب یہ ہے کہ خدا ضرور تمہارے مد مقابل کو تمہاری زندگی میں ہلاک یا رسوا کر دے۔تو کیوں خدا کی تقدیر کو آپ خواہ مخواہ اپنے اندازوں کے تابع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔خدا کی تقدیر کا تقدس تقاضا کرتا ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایسے بڑے بڑے دعوے نہ کیا کریں تو اس لئے بھی مجھے ضرورت پیش آئی ہے کہ اس مضمون کو ایک دفعہ خوب اچھی طرح کھول دوں۔جہاں تک دشمن کے دعاوی کا تعلق ہے وہ ویسے ہی مضحکہ خیز ہیں اور ایک دوسرے کو جھٹلانے والے ہیں اور اتنے لغو ہیں کہ کوئی بچہ بھی ان کو سن کر ان سے متاثر نہیں ہوسکتا میں اس کی چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ وہ جو احمدیوں پر مبالغے کا الزام دھرتے ہیں ان کی اپنی کیفیت کیا ہے ان کے نزدیک جماعت احمدیہ کی تعداد کیا ہے اور ان کے اندازوں میں اختلافات کیا کیا ہیں اسکے چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایشیا جو جماعت اسلامی کا ہفت روزہ رسالہ ہے۔۲۹ نومبر ۱۹۷۰ء کو اس نے اپنی اشاعت میں لکھا کہ ”پاکستان میں 11 کروڑ مسلمان بستے ہیں جبکہ قادیانیوں کی کل تعداد چند لاکھ بھی نہیں یاد رکھئے ! یہ ان کا ۲۹ نومبر ۱۹۷۰ء کا اعلان ہے اس کے ۳ مہینے بعد ہفت روزہ چٹان میں جماعت اسلامی کے سرکردہ لیڈ رسید اسعد گیلانی کا یہ بیان شائع ہوا کہ مغربی حصے میں ( یعنی مشرقی پاکستان کو الگ کر کے مغربی پاکستان میں ) ۲۲لاکھ سے زائد قادیانی اقلیت اپنے سارے وسائل کے ساتھ پیپلز پارٹی کی رضا کا تنظیم بن گئی۔یعنی ۳ مہینے پہلے چند لاکھ بھی نہیں تھے ۵ سے بھی کم اور ۳ مہینے کے بعد ۲۲ لاکھ ہو گئے جن میں اکثریت رضا کاروں کی تھی۔اب اس قسم کے تخمینوں سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان میں نہ کوئی تنگ نہ کوئی حساب جو منہ میں آئے انٹ شنٹ کہتے چلے جاتے ہیں۔کبھی جہاں دل چاہا تعداد کو کم کر دیا جہاں دل چاہا بڑھا دیا۔اس کے مقابل پر جو جماعت کا تخمینہ ہے وہ اگر زیادہ بھی ہو تو اس کے حقیقت سے زیادہ ہونے کے لئے کچھ جواز بھی موجود ہیں جیسا کہ میں نے بیان کئے ہیں۔